عدالت نے پولیس کو کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے روک دیا

اپ ڈیٹ 24 اگست 2019

ای میل

کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی گئی—فوٹو:ڈان نیوز
کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی گئی—فوٹو:ڈان نیوز

لاہور کی سیشن عدالت نے سابق وزیراعظم نوار شریف کے داماد کپیٹن (ر) محمد صفدر کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

واضح رہے کہ پولیس نے 22 اگست کو مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیشی کے دوران اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں کیپٹن (ر) محمد صفدر سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 14 اراکین کے خلاف مقدمہ درج کردیا تھا۔

اس معاملے پر درج ایف آئی آر کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے نائب صدور مریم نواز اور حمزہ شہباز کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 14 کارکنان نے پولیس اہلکاروں کے کام میں مداخلت کی اور انہیں دھمکیاں دیں۔

مقدمے میں کہا گیا تھا کہ محمد صفدر نے ایک پولیس اہلکار سے لاٹھی بھی چھین کر ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں:پولیس کو دھمکیاں دینے پر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ

جس پر پولیس نے کیپٹن (ر) صفدر اور دیگر لیگی کارکنان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 147، 149، 186 اور 353 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

تاہم کیپٹن(ر) صفدر نے سیشن عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کردی تھی اور موقف اپنایا تھا کہ پولیس حکام نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر درج کیا گیا، لہٰذا عدالت عبوری ضمانت کے لیے درخواست کی منظوری کا حکم جاری کرے۔

بعدازاں سیشن عدالت کے جج تجمل شہزاد چوہدری نے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض کیپٹن (ر) صفدر کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

یہ بھی پڑھیں:چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

ساتھ ہی عدالت نے تھانہ اسلام پورہ پولیس سے کپٹین (ر) محمد صفدر سے متعلق مقدمے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر پرویز ملک نے کیپٹن (ر) صفدر سمیت مسلم لیگی کارکنان کے خلاف مقدمے کے اندراج پر پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ 'کشمیر فروخت کرنے والے' حکمران اپنی ناانصافیوں کے خلاف عوام کی آواز کو دبا نہیں سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کی عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے ہمارے کارکنان پر تشدد کیا۔

مزید پڑھیں:رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت پر 'اے این ایف' کو 28 اگست کیلئے نوٹس

پرویز ملک کا کہنا تھا کہ عمران خان کی 'فسطائی' حکومت لیگی کارکنان کو اپنے رہنماؤں سے اظہار یکجہتی کرنے سے نہیں روک سکتی۔

رکن اسمبلی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت آمریت ہے کیونکہ اپوزیشن کی آواز دبائی جارہی ہے اور میڈیا سینسرشپ کی زد میں ہے۔