ہانگ کانگ میں احتجاج، پولیس کی مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ

اپ ڈیٹ 24 اگست 2019

ای میل

ہانگ کانگ میں مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا—فائل فوٹو: رائٹرز
ہانگ کانگ میں مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا—فائل فوٹو: رائٹرز

ہانگ کانگ میں مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ دراز ہوگیا ہے، جہاں دوران تصادم پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیلز فائر کیے جبکہ جواب میں مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے جبکہ مظاہرین نے جواب میں پتھراؤ کیا اور بوتلیں پھینکیں۔

رپورٹ کے مطابق ہزاروں مظاہرین نے صنعتی علاقے کوون ٹونگ کی طرف مارچ کیا، جن میں سے اکثر نے مخصوص ٹوپیاں اور گیس کے ماسک پہنے ہوئے تھے، تاہم احتجاج کرنے والوں کو ایک پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی اور لاٹھی چارج کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو ‘بریوز’ کا نام دیا گیا ہے، جنہوں نے ٹریفک کی رکاوٹوں اور لکڑی کے کھمبوں سے کھڑی کی گئیں رکاوٹوں کو توڑا اور آگے بڑھے جبکہ انہوں نے پولیس کے لاٹھی چارج سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی ہوئی تھیں۔

مزید پڑھیں:ہانگ کانگ: ہزاروں مظاہرین کا ایئرپورٹ پر احتجاج، تمام پروازیں منسوخ

ادھر ہانگ کانگ میں ہونے والے آج کے مظاہروں میں تصادم کے بعد پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

خیال رہے کہ احتجاج کے دوران ہانگ کانگ کی پولیس کو مظاہرین کی جانب سے نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ پولیس بھی سختی سے جواب دے رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی اس وقت عروج کو پہنچی تھی، جب مظاہرین نے ہانگ کانگ کے ایئرپورٹ میں شدید احتجاج کیا تھا، جس کے نتیجے میں پروازوں کو بھی معطل کردیا گیا اور ایئرپورٹ کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

تاہم ہانگ کانگ میں تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سخت گیر مظاہرین ‘بریوز’ کے اراکین جمع ہورہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:ہانگ کانگ میں مظاہرین کا پارلیمنٹ پر قبضہ

اس حوالے سے اے ایف پی کو 19 سالہ طالب علم نے بتایا کہ ‘میں سمجھ گیا ہوں کہ پُرامن رہنا مسئلے کا حل نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت پُرامن احتجاج کا جواب نہیں دے رہی، اگر میں گرفتار ہورہا ہوں تو اس کی وجہ ہے کہ میں باہر نکل کر انصاف کے لیے بول رہا ہوں’۔

ہانگ کانگ کے ایک 65 سالہ بزرگ شہری ڈی چیونگ کا احتجاج میں شرکت کی وجوہات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘انہوں نے ہانگ کانگ کو اس طرح کی صورت حال میں کبھی نہیں دیکھا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جو نوجوان گھروں سے باہر آئے ہیں انہوں نے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگایا ہوا ہے اور وہ یہ سب کچھ ہانگ کانگ کے لیے کررہے ہیں’۔

مزید پڑھیں:ہانگ کانگ میں ہنگامہ آرائی اور مظاہرے

بزرگ شہری نے کہا کہ ‘بریوز کے حوالے سے کچھ چیزیں ہیں، جن سے ہم اختلاف کرسکتے ہیں لیکن ذرا سوچیے کہ وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں’۔

یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں احتجاج کا سلسلہ چین کو شہریوں کی حوالگی کے حوالے سے مجوزہ قانون کے خلاف شروع ہوا تھا، تاہم اس قانون کی واپسی کے باوجود شہریوں نے جمہوریت اور پولیس کے احتساب کا مطالبہ کر دیا تھا۔