نفرت انگیز مواد سے متعلق کیس: سپریم کورٹ میں قاری اسحٰق کی اپیل مسترد

25 اگست 2019

ای میل

عدالت نے کیس میں پولیس کی گواہی کو قابل اعتبار قرار دیا اور قاری اسحٰق کی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کردی — فائل فوٹو/اے ایف پی
عدالت نے کیس میں پولیس کی گواہی کو قابل اعتبار قرار دیا اور قاری اسحٰق کی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کردی — فائل فوٹو/اے ایف پی

سپریم کورٹ نے قاری محمد اسحٰق غازی کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کے دوران پولیس کی گواہی کو قبول کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عوام میں سے کوئی گواہ دستیاب نہ ہو تو جرم ثابت کرنے کیلئے پولیس کی گواہی ہی کافی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی محمد امین احمد نے قاری محمد اسحٰق غازی کی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 'پولیس حکام دیگر کی طرح بہتر گواہ ہیں اور ان کے شواہد اس ہی معیار کے ہیں جیسے دیگر کے ہوتے ہیں'۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے قاری اسحٰق کے خلاف دیئے گئے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، جس میں ملزم پر مخصوص فرقے کے خلاف نفرت انگیز مواد پر مبنی پیمفلٹ تقسیم کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: فیصل آباد: نفرت انگیز مواد کی تقسیم پر 2 افراد کو سزا

قاری اسحٰق کو پولیس نے اوکاڑہ سے گرفتار کیا تھا جنہیں بعد ازاں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت 5 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس امین احمد ریمارکس دیئے کہ پولیس، ریاست کے ماتحت ادارہ ہیں اور ان کی گواہی بھی قابل اعتبار ہے۔

انہوں نے مزید ریمارکس دیئے تھے کہ 'عوام انصاف کی مدد کے لیے سامنے آنے کے بجائے محفوظ رہنے کو ترجیح دیتی ہے'۔

جسٹس امین احمد سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا حصہ تھے جس کی سربراہی جسٹس منظور احمد ملک کر رہے تھے اور اس بینچ میں جسٹس سید منصور علی بھی شامل تھے۔

جب یہ اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو درخواست گزار کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 382 بی کے تحت اپنی سزا مکمل کرکے جاچکے تھے۔

دفعہ 382 بی جیل میں موجود ملزمان کی سزا میں کمی کرنے سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاستی اداروں کےخلاف نفرت آمیز مواد، لیگی یوتھ ونگ کا صدر گرفتار

اپیل کی سماعت کے دوران ان کے وکیل رائے بشیر احمد نے عدالت عظمیٰ میں کیس کے حقائق اور قانونی نکات سے متعلق موقف پیش کیا۔

ان کے موقف میں قابل اعتراض پیمفلٹ کو مسترد کیا جانا، عوام میں سے کسی گواہ کا سامنے نہ آنا اور استغاثہ کی نفرت انگیز مواد کی عوام میں تقسیم کو ثابت کرنے میں ناکامی شامل تھی جو ان کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 9 کو عائد کیے جانے کے لیے ضروری تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس امین احمد نے ریمارکس دیئے کہ پیمفلٹ کا مواد نفرت اور تفرقہ سے بھرا ہے، اسے دوبارہ بر آمد کیا جانا گھناؤنا ہوگا، یہ عوام میں اشتعال پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی فرقے کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تقسیم ہی جرم نہیں بلکہ اسے اپنے پاس رکھنا بھی جرم ہے۔