امریکا میں ای سگریٹ 'ویپ' کے استعمال سے پہلی موت

اپ ڈیٹ 25 اگست 2019

ای میل

امریکا میں ای سگریٹ 2006 سے دستیاب ہیں  — فائل فوٹو/شیزا ملک
امریکا میں ای سگریٹ 2006 سے دستیاب ہیں — فائل فوٹو/شیزا ملک

واشنگٹن: امریکی حکام کا کہنا ہے حال ہی میں ای سگریٹ 'ویپ' پینے والا مریض جگر کے عارضے میں مبتلا ہوکر انتقال کرگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مڈویسٹرس ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر جینیفر لیڈن کا کہنا تھا کہ 'گزشتہ روز ہمیں اطلاع ملی کہ ویپ کے استعمال سے جگر کے عارضے میں مبتلا شخص کا انتقال ہوگیا'۔

انہوں نے مذکورہ شخص کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی عمر 17 سے 38 سال کے درمیان تھی۔

مزید پڑھیں: سلگتے سگریٹ کو بجھائیے، ہمارے جنگل بچائیے

خیال رہے کہ امریکا کے سینٹر فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی 22 ریاستوں میں الیکٹرانک سگریٹ کے استعمال سے جگر کے عارضے کے 193 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

ان تمام افراد کو ہونے والی بیماری کی وجہ تو سامنے نہیں آئی لیکن یہ تمام افراد حال ہی میں الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال کر رہے تھے۔

محکمہ صحت کی ڈائریکٹر ڈاکٹر گوزی ازیکے کا کہنا تھا کہ 'لوگوں میں پیدا ہونے والی بیماریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ہمیں آگاہی پھیلانی ہوگی کہ الیکٹرانک سگریٹ اور ویپ صحت کے لیے نقصاندہ ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: ای سگریٹ انسانی خون کے لیے خطرہ

تاہم سی ڈی سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ 'یہ تمام کیسز ایک جیسے لگتے ہیں لیکن یہ بات ابھی واضح نہیں کہ ان سب کی بیماری کا باعث بھی ایک ہی تھا یا یہ الگ بیماریاں ہیں جن کے اثرات ایک جیسے ہیں'۔

واضح رہے کہ کسی بھی کیس میں بیماری کے حوالے سے کسی مخصوص پروڈکٹ کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔

امریکا میں ای سگریٹ 2006 سے دستیاب ہیں اور کچھ جگہوں پر اسے تمباکو نوشی جیسے عام سگریٹ کو چھوڑنے کے لیے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔