سید علی گیلانی کا 5 نکاتی لائحہ عمل کا اعلان، پاکستان سے مدد کی اپیل

اپ ڈیٹ 25 اگست 2019

ای میل

سید علی گیلانی نے کشمیر سے باہر بسنے والے کشمیریوں سے سفیر بننے کی اپیل کردی — فائل فوٹو: اے ایف پی
سید علی گیلانی نے کشمیر سے باہر بسنے والے کشمیریوں سے سفیر بننے کی اپیل کردی — فائل فوٹو: اے ایف پی

مقبوضہ جموں اور کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کشمیریوں کو متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے 5 نکاتی لائحہ عمل کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی پاکستان سے مدد کی درخواست بھی کردی۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سربراہ سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کے نام لکھے گئے خط میں کہا کہ آج کشمیر کی تالا بندی ہے اور اسے ایک جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو کی وجہ سے مواصلاتی نظام بند ہے جبکہ احتجاج کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

حریت رہنما نے کہا کہ بھارت وحشیانہ ظلم و ستم کی اطلاعات بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روک رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہے گا، وزیراعظم آزاد کشمیر

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیریوں پر یکطرفہ فیصلہ مسلط کر دیا گیا اور یہاں قابض فوج کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا جبکہ کشمیری اپنے گھروں میں قید ہو کر رہے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی، ہر خالی صفحہ چیخ چیخ کر تاریخی حقائق بتائے گا۔

’بھارت کی سرتوڑ کوشش کے باوجود سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا‘

سید علی گیلانی نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر ہونے سے متعلق کہا کہ ’بھارت کی سرتوڑ کاوشوں کے باوجود جس طرح مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا، اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔‘

حریت رہنما کا کہنا تھا کہ عالمی میڈیا، جس انداز میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کر رہا ہے، وہ بھی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا آغاز ہو چکا ہے، صدر آزاد کشمیر

انہوں نے متنبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا جغرافیہ، اس کی ہیت اور آبادی کا مذہبی تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے جبکہ اس کے یہ اقدامات عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی 2 حصوں میں تقسیم، جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے، ان لوگوں پر نفسیاتی جنگ مسلط کردی گئی ہے۔

’بھارت نواز رہنما بھی آج نئی دہلی کی حقیقت جان گئے‘

سید علی گیلانی نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی نظر بندی سے متعلق کہا کہ بھارت نواز کشمیریوں کے سوداگروں کو بھی نظر بند کردیا گیا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھارت نواز رہنما بھی یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ نئی دہلی کے نزدیک کشمیریوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

انہوں نے باور کروایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت نواز قیادت بھی بھارتی قبضے کے خلاف اور مقبوضہ وادی کی مکمل آزادی کے لیے کشمیریوں کا ساتھ دے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود بھارت مخالف مظاہرے

حریت رہنما نے مزید کہا کہ آج کشمیریوں، حریت قیادت اور مقبوضہ وادی میں جاری حق خودارادیت کی جدوجہد کا موقف سچ ثابت ہوگیا۔

انہوں نے بھارتی عزائم کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے خط میں واضح کیا کہ بھارت کشمیری عوام نہیں بلکہ کشمیر کی سرزمین چاہتا ہے۔

سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کو پیغام دیا کہ بہادری، صبر اور تنظیم جیسے ہتھیار کی مدد سے بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دی جا سکتی ہے۔

سید علی گیلانی نے 5 نکاتی لائحہ عمل کا اعلان کردیا

بھارتی غاصبانہ اقدامات کے خلاف سید علی شاہ گیلانی نے 5 نکاتی لائحہ عمل دیتے پوئے کہا کہ کشمیری عوام بہادری سے بھارتی مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

حریف رہنما نے مظلوم کشمیروں سے مطالبہ کیا کہ تمام لوگ اپنے اپنے علاقوں میں بڑے پیمانے پر بھارت کے خلاف پرامن مظاہرے اور احتجاج کریں۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’بھارتی فورسز مارنے کے لیے تیار ہیں لیکن پھر بھی آپ پر امن رہیں‘۔

’سرکاری حکام بھی احتجاج میں شامل ہوں‘

سید علی گیلانی نے کشمیری حکام، بیوروکریٹس اور پولیس کے حکام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں موجود لوگ جان لیں کہ نئی دہلی کو ان پر بھی کوئی اعتماد نہیں۔

انہوں نے باور کروایا کہ پولیس کو غیر مسلح کرکے سیکیورٹی کے تمام اختیارات فوج اور نیم فوجی دستوں کو دے دیے گئے ہیں۔

سید علی گیلانی نے سرکاری حکام سے بھی احتجاج میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر وہ احتجاج میں شامل نہیں ہوئے تو بھارت نواز سیاستدانوں کی طرح غیر ضروری ہوجائیں گے۔

’کشمیر سے باہر بیٹھے لوگ وادی کے سفیر بنیں‘

سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر سے باہر بیٹھے کشمیریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیر کے سفیر بنیں، وادی کے تمام معاملات سے واقف رہیں اور اپنے احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

اپنے خط میں انہوں نے تمام کشمیریوں کو مشورہ دیا کہ بھارتی غاصبانہ قبضے، ظلم و ستم کو اجاگر کرنے کے لیے وہ کشمیر کی تاریخ اور حالات سے واقفیت رکھیں۔

’پاکستان ہماری مدد کو آئے‘

سید علی گیلانی نے اپنے خط میں پاکستانیوں کو پکارتے ہوئے کہا کہ پاکستان، پاکستانی عوام اور مسلم امہ کشمیریوں کی فوری مدد کے لیے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، اس کے عوام اور پوری مسلم امہ مسئلہ کشمیر کے اہم فریق ہیں۔

’یہ اتحاد کا وقت ہے‘

انہوں نے کشمیری عوام پر زور دیا کہ یہ اتحاد اور عمل کا وقت ہے، اگر آج حقیقی عمل نہ ہوا تو نہ صرف تاریخ بلکہ آئندہ نسلیں بھی آپ کو معاف نہیں کریں گی۔

سید علی گیلانی نے کشمیری قیادت پر زور دیا کہ سیاسی و سفارتی رابطے تیز کیے جائیں اور بھارت کی اس دھوکہ دہی کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کا فیصلہ

انہوں نے پوری کشمیری عوام سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے اس زہر آلود منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں، جو نہ صرف کشمیریوں بلکہ لداخ کے بدھ مت، کارگل کے مسلمانوں اور پیربنجال کے خلاف ہیں۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت ہماری زمین ہی نہیں بلکہ مشترکہ شناخت اور بھائی چارے کی تباہی چاہتا ہے تاہم ہمیں اپنی زندگیاں، املاک اور شناخت بچانے کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہونا ہوگا۔

انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جان لے کہ 10 لاکھ نہیں بلکہ پوری فوج بھی لے آئے تب بھی کشمیری اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

خیال رہے کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی کے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔

بعد ازاں مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی، تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی بھی دیکھنے میں آئی۔

مزید پڑھیں: ’مسئلہ کشمیر پر تمام آپشنز زیر غور ہیں‘

بھارتی حکومت کے اس غیر قانون اقدام کے بعد کشمیریوں کی جانب سے مسلسل احتجاج بھی کیا جارہا ہے، جبکہ بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں متعدد کشمیری شہید و زخمی ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا بھی بول پڑا اور اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھا دیئے۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔

سفارتی محاذ پر پاکستان متحرک

اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی وزیر خارجہ دیگر ممالک سے روابط میں ہیں بلکہ اسلام آباد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس بھی منعقد ہوا۔

یاد رہے کہ 22 اگست کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا، بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں نئی دہلی کی موجودہ حکومت کو نازی جرمنی کی حکومت سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔