ایرانی وزیر خارجہ کی جی-7 سربراہی اجلاس میں ڈرامائی شرکت

اپ ڈیٹ 25 اگست 2019

ای میل

ایرانی وزیر خارجہ غیرمتوقع طور پر فرانس پہنچ گئے—فوٹو:اے ایف پی
ایرانی وزیر خارجہ غیرمتوقع طور پر فرانس پہنچ گئے—فوٹو:اے ایف پی

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی ڈیڈلاک کو توڑنے کے لیے غیر متوقع اور ڈرامائی انداز میں جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس کے جنوبی شہر بیارٹز پہنچ گئے۔

خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق جواد ظریف کی شرکت سے متعلق پہلے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا لیکن اس اقدام کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جی-7 سربراہی اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ کی براہ راست ملاقات متوقع نہیں ہے لیکن دونوں رہنماؤں کی ایک جگہ موجودگی سے کشیدگی میں کمی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘جواد ظریف فرانس اور ایران کے صدر کے درمیان ہونے والے حالیہ اقدامات پر مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے بیارٹز پہنچ گئے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس میں جی-7 رہنما کانفرنس، ہزاروں مخالفین کا مارچ

دوسری جانب فرانس کے صدر میکرون کے دفتر کی جانب سے جواد ظریف کی آمد کی تصدیق کی گئی لیکن ساتھ ہی وضاحت کی گئی کہ امریکی صدر سے مذاکرات طے نہیں۔

امریکا کے سیکریٹری خزانہ اسٹیون منیوچن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ ‘اگر ایران ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہے اور مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ شرائط عائد نہیں کریں گے’۔

خیال رہے کہ فرانسیسی صدر میکرون نے جی-7 سربراہی اجلاس کے پیش نظر جواد ظریف سے پیرس میں ملاقاتیں کی تھیں اور امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں بھی کرتے رہے ہیں۔

فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ میکرون نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ تیل کی فروخت سمیت ایران کو متعدد معاملات پر چھوٹ دی جائے یا برآمدات کے حوالے سے نیا معاہدہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے دست برداری کا اعلان کیا تھا اور ایران پر مزید معاشی پابندیاں بھی عائد کردی تھیں۔

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں امریکا کے علاوہ روس، چین، فرانس اور جرمنی بھی شامل تھے اور ان ممالک نے معاہدے کو جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔