جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر دھماکا، 3 افراد زخمی

اپ ڈیٹ 25 اگست 2019

ای میل

پاکستان نے گزشتہ برس جلال آباد میں اپنا قونصل خانہ احتجاجاً بند کردیا تھا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
پاکستان نے گزشتہ برس جلال آباد میں اپنا قونصل خانہ احتجاجاً بند کردیا تھا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

افغانستان کے شہر جلال آباد میں قائم پاکستان کے قونصل خانے کے باہر دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ‘جلال آباد میں ہمارے قونصل خانے کے باہر آئی ای ڈی دھماکا ہوا’۔

قونصل خانے میں موجود پاکستانیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستانی عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں’۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ‘اطلاعات ہیں کہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار اور 2 درخواست گزار زخمی ہوئے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘قونصل خانے کے اطراف اور عملے کی سیکیورٹی کے اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیں’۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا اس مقام پر ہوا جہاں لوگ ویزے کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 30 اگست 2018 میں افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے نے سیکیورٹی انتظامات پر مداخلت پر جلال آباد کا قونصل خانہ عارضی طور پر بند کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی انتظامات میں مداخلت: پاکستان نے جلال آباد قونصل خانہ بند کردیا

پاکستانی سفارتخانے سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ صوبہ ننگرہار کے گورنر حیات اللہ حیات کی جلال آباد کے قونصل خانے کی سیکیورٹی سمیت مختلف امور میں بے جا مداخلت افسوسناک اور 1963 کے ویانا کنونشن کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

سفارت خانے نے گورنر کی بے جا مداخلت کو روکنے کے لیے افغان وزارت خارجہ سے رابطہ کیا تھا اور قونصل خانے کی سیکیورٹی بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بعد ازاں 08 اکتوبر 2018 کو افغان حکام کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد پاکستان نے جلال آباد میں قائم اپنا سفارت خانہ کھول دیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں برس 27 جنوری کو افغانستان کے شہر مزار شریف میں قائم پاکستانی قونصلیٹ پر حملے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس کوشش کو ناکام بنادیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان: مزار شریف میں پاکستانی قونصل خانے پر حملے کی کوشش ناکام

مزارت شریف میں قائم قونصل خانے پر حملے کی ناکام کوشش کے حوالے سے اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ایک افغان خاتون کو مزار شریف میں پاکستانی قونصل خانے میں گھسنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خاتون کی تلاشی کے دوران اُن کے بیگ سے ایک دستی بم برآمد ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا تھا کہ خاتون کو حراست میں لینے کے بعد قونصل خانے کو بند کردیا گیا جبکہ مزید تفتیش کے لیے خاتون کو افغان پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔