2018 میں 20 ہزار انسانی اسمگلنگ، گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ

اپ ڈیٹ اگست 28 2019

ای میل

عالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ کے متاثرین میں 80 فیصد خواتین اور لڑکیاں ہوتی ہیں، ایف آئی اے حکام — اےایف پی/فائل فوٹو
عالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ کے متاثرین میں 80 فیصد خواتین اور لڑکیاں ہوتی ہیں، ایف آئی اے حکام — اےایف پی/فائل فوٹو

اسلام آباد: ملک میں انسانی اسمگلنگ اور گھریلو تشدد کے گزشتہ سال تقریباً 20 ہزار کیسز سامنے آئے جن میں سے 91 فیصد کیسز خواتین اور لڑکیوں سے متعلق تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے سیمینار میں ماہرین نے نشاندہی کی کہ خواتین اور لڑکیوں پر انسانی اسمگلنگ کے مسائل سے کسی حد تک فرق پڑ رہا ہے اور عالمی اندازے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خواتین اور لڑکیاں عالمی سطح پر ہونے والی انسانی اسمگلنگ کا 80 فیصد ہوتی ہیں اور 60 فیصد سے زائد کا تعلق ایشیا سے ہوتا ہے۔

'خواتین اور لڑکیوں کی اسمگلنگ کے خلاف مل کر لڑنا' کے نام سے ہونے والے سیمینار کو اقوام متحدہ کے خواتین کے ادارے برائے پاکستان نے نیشنل کمیشن برائے حیثیتِ خواتین (این سی ایس ڈبلیو) اور کشف فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: پنجاب کی 15 سے 64 سالہ ایک تہائی خواتین کو تشدد کا سامنا، سروے

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے نمائندے نے سیمینار کے شرکا کو بتایا کہ پاکستانی خواتین کو انسانی اسمگلنگ کا نشانہ غربت کا شکار علاقے جنوبی پنجاب اور بلوچستان سے ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں سے بھی بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں چند پاکستانی خواتین کو شادی کا دھوکا دے کر چین لے جایا گیا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اس کے خلاف ہر سطح پر روک تھام کی ضرورت ہے جس میں عوام میں شعور پیدا کرنا بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے نمائندے جمشید قاضی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کو انسانی حقوق کے تحت ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد سے لڑنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے، تاہم اب بھی مزید چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حاملہ خاتون کو قتل کرکے پیٹ سے بچہ نکالنے والی خواتین گرفتار

انہوں نے کہا کہ 'ان چیلنجز میں سے ایک خواتین اور لڑکیوں کی اسمگلنگ ہے جو اتنی توجہ حاصل نہیں کرپاتی جتنی اسے ملنی چاہیے، اس صورتحال سے کامیابی سے نمٹنے کے لیے اس سنگین مسئلے کو حل کرنا ہوگا، ہمیں سماجی روایات اور رویوں کو بدلنے کے لیے کام کرنا ہوگا'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'اس مسئلے کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کرنے کے لیے حال ہی میں ٹی وی چینل میں ایک ڈرامہ سیریل نشر ہوا تھا جس میں خواتین اور لڑکیوں کی اسمگلنگ کے بارے میں دکھایا گیا تھا۔

سیمینار میں ماہرین نے نشاندہی کی کہ اسمگلنگ سے متاثرین کو تحفظ، مدد اور تعاون، علاج تک رسائی، برادری میں باعزت اور پروقار طریقے سے واپسی کی ضرورت ہے۔

شرکا کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے اور متاثرین کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی سوچ تبدیل کرنے کے لیے ڈرامہ سیریل سب سے اہم ذریعہ ہے۔