سپریم کورٹ اداروں میں آئین کی پاسداری کرنے کو یقینی بنائے، پی بی سی

اپ ڈیٹ 28 اگست 2019

ای میل

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شریک ہوئے— تصویر: بشکریہ ٹوئٹر
چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شریک ہوئے— تصویر: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نائب چیئرمین سید امجد شاہ نے سپریم کورٹ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا اعلیٰ عدلیہ اس بات کو یقینی بنانے میں کامیاب رہی ہے کہ ریاست کے باقی ستون مثلاً پارلیمنٹ آئین میں دی گئی حدود کے تحت آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے موجودہ سیاسی نظام میں گھٹن ہے اور بعض ریاستی اداروں اور محکموں کی جانب سے ہر قسم کی مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ عظمت سعید کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’کیا اس طرح کے اداروں کو آئین کے برخلاف دوسرے اداروں کے دائرہ کار میں دخل اندازی کی اجازت ملنی چاہیے اور کیا عدالت عظمیٰ اس قسم کی کوششوں پر نظر رکھنے کے حوالے سے موثر ثابت ہوئی‘۔

یہ بھی پڑھیں: جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کیلئے بار کونسل کی درخواست

خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، اٹارنی جنرل انور منصور اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کُنرانی نے بھی تقریب سے خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی موجود تھے۔

اپنی تقریر میں امجد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پی بی سی مسلح افواج کی بھر پور حمایت کرتی ہے اور پوری وکلا برادری دفاعی ضروریات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے خاص کر موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے دوران اس کی حمایت کرتی ہے۔

تاہم سیاسی معاملات میں مداخلت سے ان اداروں کا وقار ختم ہوتا ہے خاص کر ایسے وقت میں جب پاکستان دوراہے پر ہے اور امکان کا بھی متحمل نہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان بار کونسل کا ججز کے خلاف ریفرنسز کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

پی بی سی کے نائب چیئرمین نے قانون اور حکمرانی کو یقینی بنا کر ملک کا تحفظ کرنے کے لیے ہر سطح پر اتحاد کی ضرورت پر زور دیا، ایک ایسے وقت جب اندرونی اور بیرونی قوتیں پاکستان کو عراق، شام یا افغانستان بنانا چاہتی ہیں۔

اس کے ساتھ انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف باری سے ہٹ کر ریفرنس کی سماعت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز نے اس سلسلے میں متعدد مرتبہ اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ آئین کی دفعہ 184 (3) کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو چیلنج کرنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت جلد کرے گا۔