چین ایک بار پھر دنیا کو پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار

30 اگست 2019

ای میل

چینی کمپنی کی خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں — فوٹو بشکریہ ڈی ڈی
چینی کمپنی کی خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں — فوٹو بشکریہ ڈی ڈی

چین میں اکثر منصوبے انتہائی حیرت انگیز ہوتے ہیں اور اب ایک بار پھر وہاں ایسا کچھ ہونے والا ہے جو دنیا کے دیگر ممالک میں فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔

چین کی مقبول ترین رائیڈ شیئرنگ سروس ڈی ڈی نے شنگھائی میں ایسی ٹیکسی سروس چلانے کا اعلان کیا ہے جسے چلانے کے لیے انسانوں کی ضرورت نہیں ہوگی یا یوں کہہ لیں ڈرائیو لیس گاڑیاں ہوں گی۔

کمپنی کے مطابق شنگھائی کے ضلع جیاڈنگ میں 30 مختلف لیول فور خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں کو چلایا جائے گا۔

لیول فور سے مراد خودکار ڈرائیونگ کی اعلیٰ ترین صلاحیت ہے مگر ایک انسانی ڈرائیور بھی مینوئیلی انہیں چلاسکتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے پائلٹ پراجیکٹ میں خودکار ڈرائیونگ والی گاڑیوں اور انسانوں کی ڈرائیونگ والی گاڑیوں کا امتزاج آزمایا جائے گا۔

یہ روبوٹ ٹیکسی سروس کب تک شروع ہوگی، کمپنی کی جانب سے اس کا اعلان نہیں کیا گیا مگر یہ منصوبہ چین کی جانب سے اے آئی صنعت میں خود کو زیادہ سے زیادہ آگے لے جانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

چین 2030 تک اے آئی صنعت میں عالمی لیڈر بننے کا خواہشمند ہے۔

ویسے ڈی ڈی کی خودکار ڈرائیونگ ٹیکسی سروس پہلی نہیں، اس سے پہلے چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی Baidu بھی ایسا اعلان کرچکی ہے اور رواں سال کے آخر میں Changsha میں اس کا آغاز کرنے والی ہے، چین کے صوبے گوانگزو کے ضلع نانشا میں بھی ایک کمپنی اس طرح کے پراجیکٹ پر کام کررہی ہے۔

دوسری جانب امریکا میں ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کمپنی 2020 تک روبوٹ ٹیکسیوں کو سڑکوں پر لے آئے گی۔