وزیرا عظم کا اماراتی ولی عہد کو فون، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو

اپ ڈیٹ 30 اگست 2019

ای میل

یو اے ای کے ولی عہد نے حالیہ پیش رفت پر  وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا—فوٹو: رائٹرز
یو اے ای کے ولی عہد نے حالیہ پیش رفت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا—فوٹو: رائٹرز

وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ولی عہد محمد بن زید سے ٹیلی فون پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

عمران خان نے یو اے ای کے ولی عہد کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور کرفیو چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں سنگین انسانی حقوق اور انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کی بہتری کیلئے وقت درکار ہے، بھارتی سپریم کورٹ

وزیراعظم نے بتایا کہ ’لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی جانب سے جنگ بندی کے خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور نئی دہلی مقبوضہ کشمیر پر عالمی توجہ ہٹانے کے لیے جعلی آپریشن کرسکتا ہے جس کے قوی امکان ہیں'۔

علاوہ ازیں عمران خان نے ولی عہد محمد بن زید کو بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ اسلامی ممالک کی بھرپور حمایت کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس مشکل وقت پر پاکستان کے لوگ بھی یو اے ای سمیت او آئی سی ممالک سے بڑی امیدیں وابستہ کرچکے ہیں‘۔

عمران خان نے زور دیا کہ عالمی برادری وادی میں سے کرفیو اور دیگر پابندیاں ہٹانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے اور کشمیریوں کے حقوق اور ان کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

یو اے ای کے ولی عہد نے حالیہ پیش رفت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں،وزیراعظم سے اردن، فرانس کے سربراہان کی گفتگو

دونوں ممالک کے سربراہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر دوطرفہ تعاون جاری رکھنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے اردن کے شاہ عبداللہ دوَم اور فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی کشیدہ صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔

شاہ عبداللہ دوَم نے کہا تھا کہ اردن، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے اقدامات کو قریب سے دیکھ رہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کشیدگی میں کمی لانے کا مطالبہ کیا اور مسئلہ کشمیر کا مذاکرات کے ذریعے پُر امن حل نکالنے پر زور دیا تھا۔

مزیدپڑھیں: مقبوضہ کشمیر: لاک ڈاؤن کے باوجود 500 مظاہرے، سیکڑوں افراد زخمی

علاوہ ازیں فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی تصفیہ طلب مسائل کا حل پرامن طریقے سے نکالنے پر زور دیا تھا۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے یکطرفہ اقدام کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہوئے وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا جبکہ اس اقدام سے پہلے کرفیو نافذ کردیا تھا جو مسلسل جاری ہے۔