سرکاری ملازم کی توسیع نقصان دہ نہیں مگر آرمی چیف کا معاملہ الگ ہے

اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2019

ای میل

اگر آپ کا کسی سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ پر اس کے ساتھیوں کی جانب سے منعقد کی گئی الوداعی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ کے ذہن میں یہ خیال ضرور آئے گا کہ آپ کسی تقریب میں آئے ہیں یا پھر کسی کے جنازے میں شریک ہیں؟

وہاں ریٹائر ہونے والے شخص کی حقیقی و تصوراتی خوبیوں پر تعریفی تقاریر کی جاتی ہیں۔ جس کے بدلے میں وہ شخص اکثر و بیشتر جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان بہترین ساتھیوں کے ساتھ کام کرنا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ پھر وہ ساتھی تقریب کے طعام کے لیے چندہ نکالتے ہیں اور آخر میں ایک الوداعی تحفہ مہمانِ خصوصی کو تھما دیا جاتا ہے۔

عام طور پر یہ تحفہ قرآن مجید کی صورت میں یہ سوچ کر دیا جاتا ہے کہ اب موصوف کے پاس مقدس کلام پڑھنے کے لیے ہی دنیاوی زندگی باقی رہ گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر سرکاری ملازموں نے اپنی ملازمتوں سے ہٹ کر زیادہ دلچسپیاں پالی ہی نہیں ہوتی ہیں۔ چند کو گولف یا برج کا کھیل پسند ہوتا ہے، جبکہ زیادہ تر کو گھر پر ہی وقت گزارنے کا شوق ہوتا ہے۔

اخراجات کی کچھ زیادہ پرواہ کرنے کی وجہ سے وہ دوسروں کے لیے کوفت کا سامان بن جاتے ہیں۔ ان کی بیویاں چاہ رہی ہوتی ہیں کہ وہ گھر سے باہر تھوڑا زیادہ وقت گزاریں۔ لیکن جب باہر جانا ہوتا ہے تو عام طور پر ان دفاتر کا رخ کرلیتے ہیں جن میں انہوں نے کبھی کام کیا ہوتا ہے، اور پھر وہاں ان کے کم عمر سابقہ ساتھی ان کی بیوروکریٹک جنگوں کی لمبی چوڑی کہانیاں سن سن بے حال ہوجاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر سینئر سرکاری ملازم اپنے کیریئر کے آخری سال مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے ایڑی چوڑی کا زور لگاتے ہوئے اپنے تمام تعلقات کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کچھ بھی مل جائے لیکن بوریت اور بے کاری سے بھرپور اگلے برسوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔

2007 میں جب جنرل مشرف ریٹائر ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ انہیں بالآخر فوج سے فارغ ہونے کے بعد کیسا محسوس ہو رہا ہے تو اطلاعات کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ وردی اتارتے وقت انہیں ایسا لگا جیسے وہ اپنی کھال اتار رہے ہیں۔ وہ 9 برسوں تک آرمی چیف کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، یعنی عہدے کی 3 سالہ عمومی مدت کے مقابلے میں انہوں نے ایک طویل عرصے تک کمان اپنے ہاتھوں میں تھامے رکھی۔

ریٹائرمنٹ سے قبل انہوں نے اپنے جانشین کے طور پر جنرل کیانی کے ہاتھوں میں یہ سوچ کر کمان سونپی کہ ضرورت کے وقت وہ ان کا تحفظ کریں گے، لیکن وہ غلط ثابت ہوئے۔ پھر اکثر سیاستدانوں نے نقصان کھا کھا کر یہ جان لیا ہے کہ اعلیٰ فوجی قیادت فوج کے ادارتی مفادات کی ہی خادم ہوتی ہے، کسی سیاسی قیادت کی نہیں۔

کیانی کی مدتِ ملازمت میں پیپلزپارٹی نے یہ سوچ کر توسیع کی کہ اس احسان کے بدلے میں جی ایچ کیو سے پختہ حمایت حاصل ہوجائے گی۔ اس وقت عمران خان نے توسیع کے فیصلے پر زرداری کا مذاق اڑایا تھا مگر آج وزیرِاعظم بننے کے بعد انہی عمران خان کو جنرل باجوہ پر یہی احسان کرنا موزوں فیصلہ لگا۔ یاد رہے کہ ان دونوں موقعوں پر توسیع کی وجہ ’قومی سلامتی‘ قرار دی گئی۔

جنرل باجوہ کے پیشرو جنرل راحیل شریف کو یہ پتہ چلا کہ نواز شریف ان کی مدت میں توسیع نہیں کرنے والے تو انہوں نے سعودی چاندی لی اور ایک گھوسٹ آرمی کی قیادت کے لیے سعودی عرب منتقل ہوگئے۔ افواہیں یہ بھی ہیں کہ ریٹائر ہونے والے اس جنرل کو ہر سال لاکھوں ڈالر تنخواہ کی حامل بے فکری کی نوکری دلوانے میں اس وقت کے وزیرِاعظم نے ریاض میں اپنے تعلقات کو استعمال کیا تھا۔

جب ایک سرکاری ملازم کو اس کی مدت ملازمت میں توسیع ملتی ہے، جس کے پیچھے عام طور پر ناگزیر وجوہات ہوتی ہیں، تو وہ کسی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث نہیں بنتا کیونکہ 22ویں گریڈ کی ویسے ہی بہت سی ملازمتیں دستیاب ہوتی ہیں۔ سول سروس کا نکتہ عروج ہی یہی ہے اور ایک ایسا وقت بھی تھا جب ایک آرمی چیف کی حیثیت ایڈیشنل سیکرٹری جتنی ہوتی تھی۔

لیکن اگر آرمی کی بات کی جائے تو وہاں ایک ہی اعلیٰ درجے کی ملازمت ہے، اس لیے جب چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع ہوتی ہے تو اگلے موقع آنے تک ترقی کے منتظر 'تین ستاروں' والے جرنیلوں میں سے چند جنرل ریٹائر ہوچکے ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی یہ ہے کہ ہماری آرمی میں اتنا زیادہ نظم و ضبط موجود ہے کہ کسی بھی قسم کی کوئی بھی ناراضی منظرِ عام پر آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جب جنرل شریف کی مدت اختتام کو پہنچنے والی تھی تو پورے ملک میں ان کی تصویر سے مزین ہزاروں پوسٹرز آویزاں کردیے گئے تھے جن میں ان سے نہ جانے کی ضد کی گئی۔

اور آج تک ہمیں یہ نہیں معلوم چل سکا کہ اس مہم کے پیچھے آخر کس کا ہاتھ تھا؟ لیکن ہماری ایجنسیوں کے کاموں سے واقف کئی ناقدین کے نزدیک یہ انہی کا کام تھا۔ خیال یہ تھا کہ نواز شریف خوفزدہ ہوکر جلدی سے جنرل کی مدت ملازمت میں توسیع کردیں گے۔

جب میں نے ایک نجی یونیورسٹی کی سربراہی کرنے کے لیے سول سروس سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی تو میں نے اپنے ان ساتھی کو حیرت میں ڈال دیا جنہوں نے سوچا تھا کہ میں 22ویں گریڈ کی چوٹی تک پہنچ جاؤں گا۔ مجھے اپنے فیصلے پر کسی قسم کا کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور دستاویزات کی الٹ پھیر کرتے رہنے کے لیے 30 برس ویسے بھی بہت ہوتے ہیں۔

لفظوں کے استعمال کے تھوڑے بہت فن اور پیچیدہ مسائل کو آسان کرنے کے ہنر میں میری قسمت کمال کی رہی ہے۔ میں ہمیشہ سے مطالعے کا شوقین بھی رہا اور جیسے جیسے زندگی آگے بڑھتی رہی کھانا پکانا میرا ایک سنجیدہ مشغلہ سا بن گیا۔

ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر کرنے کی وجہ دراصل جونئر افسران کے لیے ترقی کے مواقع فراہم کرنا اور سرکاری محکموں میں نئے خیالات لانا ہے۔ اگر کوئی باس طویل عرصے تک عہدے پر فائز رہے تو پہلے سے سخت گیر دفتری سوچ مزید جوش و ولولے سے عاری ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ، ہم سب کی زندگیوں میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب جسم پہلے جیسا فٹ نہیں رہتا اور ذہن کی تیزی اور توجہ کی صلاحیت مدھم سی پڑجاتی ہے۔

آرمی چیف جیسی چند محنت طلب ملازمتوں میں یہ عناصر کارکردگی کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

خوش قسمتی سے ہماری سپریم کورٹ کے جج صاحبان اپنی مدت ملازمت میں 65 برس کی عمر کے بعد مزید توسیع حاصل نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ان کے امریکی ہم منصب تاحیات یہ کام انجام دیتے ہیں یا پھر اپنی منشا کے مطابق کبھی بھی ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں۔

اگرچہ ہم جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں بات کر رہے ہیں، لیکن ہم یہ جان کر خوش ہوسکتے ہیں کہ ہمارے کئی حالیہ چیف جسٹس صاحبان اپنی مدت ملازمت میں توسیع حاصل نہیں کرپائے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر افتخار چوہدری اب بھی چیف جسٹس ہوتے...

یہ مضمون 31 اگست 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔