فیس بک کے 40 کروڑ صارفین کے فون نمبرز لیک ہوگئے

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2019

ای میل

فیس بک انتظامیہ کے مطابق بہت سی انٹریز ڈبل تھیں اور ان کا ڈیٹا پرانا تھا —فوٹو: شٹر اسٹاک
فیس بک انتظامیہ کے مطابق بہت سی انٹریز ڈبل تھیں اور ان کا ڈیٹا پرانا تھا —فوٹو: شٹر اسٹاک

سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کی پرائیوسی کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا جس میں 40 کروڑ سے زائد اکاؤنٹس سے منسلک فون نمبرز آن لائن لیک کردیے گئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق منظر عام پر آنے والے حالیہ اسکینڈل کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سرور میں 41 کروڑ 90 لاکھ صارفین کے نمبر اور دیگر ڈیٹا بیس محفوظ تھا۔

اس ڈیٹا بیس میں فیس بک صارفین کی آئی ڈیز، ہر اکاؤنٹ سے منسلک اعداد وشمار، پروفائل میں استعمال ہونے والے نمبر، صارفین کی صنف اور ان کی موجودگی کا مقام بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کروڑوں فیس بک صارفین کا ڈیٹا آن لائن لیک ہوگیا

اس میں سے 13 کروڑ 30 لاکھ اکاؤنٹس امریکا، 5 کروڑ اکاؤنٹس ویت نام، ایک کروڑ 80 لاکھ اکاؤنٹس برطانیہ سے تعلق رکھتے تھے۔

افشا ہونے والا سرور پاسورڈ سے محفوظ نہیں تھا جس کا مطلب ہر کوئی ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرسکتا تھا اور یہ بدھ کے روز اس وقت تک آن لائن رہا جب تک ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ ٹیک کرنچ نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔

دوسری جانب فیس بک نے ان رپورٹس کے کچھ حصوں کی تصدیق کی لیکن منظر عام پر آئے اکاؤنٹس کی تعداد کو کم بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک تصدیق ہونے والے اکاؤنٹس کی تعداد 41 کروڑ 90 لاکھ سے نصف ہے۔

مزید پڑھیں: فیس بک کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بہت سے انٹریز ڈبل تھیں اور ان کا ڈیٹا پرانا تھا۔

فیس بک ترجمان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ڈیٹا بیس کو ہٹا دیا گیا ہے اور ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے تحت فیس بک اکاؤنٹس خطرے کی زد میں آئے ہوں'۔

خیال رہے 2018 میں کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل میں جب ایک کمپنی نے کروڑوں صارفین تک رسائی کے لیے فیس بک کی پرائیویسی سیٹنگز میں نقص کا استعمال کیا تھا تو فیس بک نے اس فیچر کو ہی بند کردیا تھا جس کے ذریعے صارفین کو ان کے فون نمبر کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک پر سنگین الزامات : نیویارک ٹائمز کی چشم کشا رپورٹ

واضح رہے کہ کسی کے ہاتھ صارفین کا فون نمبر لگ جانے کی صورت میں اسپیم کالز، سم کا تبادلہ ہونے جیسے خطرات کا سامنا کرسکتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک ڈورسی کے ساتھ ہوا اور ہیکرز ان کا پاسورڈ تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔