پاکستانی ڈاکٹروں نے مقبوضہ کشمیر جانے کیلئے بھارت سے ویزا مانگ لیا

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2019

ای میل

ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں ویزا نہیں دیا تو ہم بغیر ویزا وادی میں جائیں گے — فائل فوٹو/اے ایف پی
ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں ویزا نہیں دیا تو ہم بغیر ویزا وادی میں جائیں گے — فائل فوٹو/اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستانی ڈاکٹروں کے نمائندگان نے مقبوضہ کشمیر تک انسانی بنیاددوں پر ادویات کے ساتھ رسائی دینے کے لیے بھارتی ہائی کمیشن سے درخواست کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'میں نے بھارتی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکریٹری (اکنامکس اینڈ کامرس) اشیش شرما سے ملاقات کی اور ان سے مقبوضہ کشمیر جانے کے خواہش مند 21 ڈاکٹروں کو ویزا جاری کرنے کی درخواست کی تاکہ وہاں مسلمان، ہندو، سکھ برادری وغیرہ کو علاج فراہم کیا جاسکے جو مہینے بھر سے جاری مقبوضہ وادی میں کرفیو کی وجہ سے صحت کی سہولیات سے محروم ہیں'۔

خیال رہے کہ 30 اگست کو یو ایچ ایس اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن (پی ایس آئی ایم) نے اعلان کیا تھا کہ ڈاکٹروں کی متعدد ٹیموں کو مقبوضہ جموں اور کشمیر بھیجا جائے گا تاکہ وہ کشمیریوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرسکیں۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم نے عمانی پارلیمانی وفد کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کردیا

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ٹیم اپنے ہمراہ ادویات بھی لے کر جائے گی۔

اس ملاقات کے بارے میں ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان کو مزید بتایا کہ فرسٹ سیکریٹری سے گفتگو کے دوران متعدد امور زیر بحث آئے جن میں صحت کے شعبے میں باہمی تعاون بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے مقبوضہ کشمیر میں عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کا معاملہ بھی اٹھایا اور اشیش شرما سے 21 ڈاکٹروں کی ٹیم کو ویزا دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا کہا، میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ہم وہاں موبائل فونز اور گھڑیوں کے بغیر جانے کو بھی تیار ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'ملاقات کے آغاز میں اشیش شرما کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران نہیں ہے اور صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم اس پر میں نے کہا کہ ہمیں پھر وہاں جانے کی اجازت دی جانی چاہیے اور واپسی پر ہم پریس کانفرنس کرکے عوام کو بتائیں گے کہ کشمیر کی صورتحال ٹھیک ہے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'سفیر نے کہا کہ محفوظ راستہ فراہم کرنا ممکن نہیں جس پر میں نے کہا کہ ہم اس خطرے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اور یہ بات ہم آپ کو لکھ کر دیں گے کہ کسی بھی سانحے کی صورت میں ہم اس کے خود ذمہ دار ہوں گے'۔

پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ 'ابتدا میں اشیش شرما اس خط کو لینے کو تیار نہیں تھے تاہم بعد ازاں انہوں نے اسے وصول کیا، ہم نے ان سے معاملہ بھارتی حکومت کے سامنے اٹھانے اور ہمیں مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ذریعے داخل ہونے کی اجازت دینے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ انکار کی صورت میں ہم وہاں بغیر ویزا کے جانے کی کوشش کریں گے'۔

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو لکھے گئے خط کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈاکٹروں نے عوامی صحت کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

بھارت کو اس اقدام کے بعد نہ صرف دنیا بھر سے بلکہ خود بھارتی سیاست دانوں اور اپوزیشن جماعت کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ بھارت نے 5 اگست کے اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل ہی مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا دیا تھا جبکہ مواصلاتی نظام بھی منقطع کردیے تھے جو ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال معطل ہیں۔