صلاح الدین: ایک ایسا کردار جس نے تماش بینوں کو خوب تماشا دکھایا

07 ستمبر 2019

ای میل

یہ کسی کھڑکی توڑ فلم کی کہانی سے کم نہیں۔ صلاح الدین ایوبی جیسے نام سے لے کر جسم پر تشدد اور زخموں کے نشانات کی تصاویر تک، اس کردار نے تماش بینوں کو خوب تماشا دکھایا۔

بینک کی اے ٹی ایم مشین کے کیمرے کے سامنے وہ شخص پوری دلیری سے منہ چڑھاتے ہوئے پہلی بار تماشے کے اسٹیج پر جلوہ گر ہوا۔ اس شخص نے اس پورے نظام کا مذاق اڑایا جو اکثر و بیشتر خود کو زندہ رکھنے کے لیے تشدد پر منحصر رہتا ہے۔

پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے قصبے سے تعلق رکھنے والے اس ایوبی کی کہانی میں تحرک ملتا ہے، جسے حاصل ہونے والی اس مختصر عرصے کی شہرت الزام تراشیوں اور خود پر افسوس کے ایک طویل سلسلے کی وجہ بن چکی ہے۔

تماشے کا منظر لاہور کے قریب واقع کاموکی سے فیصل آباد منتقل ہوجاتا ہے کہ جہاں اطلاعات کے مطابق ہمارے مرکزی کردار نے اے ٹی ایم کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اسی جگہ پر اس کے منہ چڑھانے کی ویڈیو ریکارڈ ہوئی تھی۔ پھر یہاں سے کہانی ذیلی پنجاب میں رحیم یار خان منتقل ہوجاتی ہے، لیکن تب تک ایوبی کی فیصل آباد میں دکھائے گئے کارناموں کی ویڈیو قومی ٹی وی پر خاصا ایئر ٹائم حاصل کرچکی ہوتی ہے۔

ناظر یہ مناظر دیکھ کر اس بات کو جان چکے تھے کہ وہ شخص ایک عام فرد نہیں ہے لہٰذا اسے اسپیشل یا خصوصی حیثیت میں سنبھالنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

نہ جانے اب ان لوگوں کے ذہن میں کیا چل رہا ہے جنہوں نے اطلاعات کے مطابق ایوبی کو پولیس کے حوالے کیا۔ اگر اب تک کی موصول ہونے والی اطلاعات کی تفصیلات میں صداقت ہے تو وہ لوگ اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ رپورٹس کے مطابق رحیم یار خان کے اس گروپ نے ایوبی کو اے ٹی ایم مشین کو مشکوک انداز میں استعمال کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک آدمی نے ایوبی کو ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج سے پہچان لیا تھا، اور پھر انہوں نے یہ طے کیا کہ پولیس ہی ہے جو اس شخص سے نمٹنے کے لیے درکار تمام ساز و سامان سے لیس ہے۔

ابتدائی طور پر ایسا بھی کہا گیا کہ ممکن ہے کہ ایوبی کو قانون نافذ کرنے والوں کے حوالے کرنے سے پہلے ان افراد نے پکڑے گئے شخص کو مارا پیٹا ہوگا، لیکن یہ سارے اشارے مدھم پڑتے گئے اور اس کہانی میں بڑی حد تک پولیس کا کردار زیرِ غور لایا گیا ہے۔

رحیم یار خان کے ہسپتال سے موصول ہونے والی حالیہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے 31 اگست بروز ہفتے کی شام صلاح الدین ایوبی کو مردہ حالت میں وصول کیا تھا۔ یہ کیس اس وقت مزید پُراسرار بن جاتا ہے جب متعلقہ علاقے کے پولیس افسر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بتایا کہ ایوبی کے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں تھے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے یہاں تک بھی کہا کہ وہ تصاویر جن میں تشدد کے نشان دکھائے گئے ہیں اور یہ دعوے کیے کہ یہ تشدد کا نشان ایوب کے جسم کے ہیں، یہ دراصل لاش کی بے حرمتی ہے۔

واقعے پر جاری عدالتی جانچ کے بعد یہ ثابت ہوجائے گا کہ آخر ہوا کیا تھا اور امید ہے کہ یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ اس موت کا ذمہ دار کون تھا۔

کہانی کو کوئی دوسرا رخ دینا بہت کٹھن ثابت ہوگا کیونکہ لوگ کہانی کے اس رخ پر یقین کر بیٹھے ہیں جو انہوں نے دیکھا ہے۔ خاص طور پر ایوبی کے اس آخری جملے کو جھٹلانا تو بہت ہی کٹھن ہوگا جس کی بنیاد پر لوگ یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ اصل مجرم کون ہے اور وہ جملہ تھا، ’آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا؟‘

چونکہ یہ کہانی ہزاروں کے منہ سے سنی گئی ہے، اس وجہ سے کہانی کے آگے بڑھنے کی رفتار بھی کافی تیز ہے اور جو تصاویر ان کی قید کے بعد منظرِ عام پر آئیں وہ بلاشبہ اسی جسم کی ہیں جو مبیّنہ طور پر ایوبی کا جسم ہے۔

کام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور تشدد کے نشان جسم کے تقریباً ہر حصے پر موجود ہیں۔ جن افراد کا کام لاشوں کا معائنہ کرنا ہے، وہ بتائیں گے کہ اس جسم کے ساتھ وہی کچھ ہوا ہے جو معمول ہے۔ تاہم یہاں کہانی میں تضاد آجاتا ہے، یہاں میری مراد بظاہر پولیس کی عمارت میں بیٹھے اور بظاہر طور پر کسی پولیس افسر سے بات چیت کر رہے صلاح الدین ایوبی کی اس گہری آواز سے ہے جس میں وہ پوچھ رہے ہیں کہ، ’آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا؟‘

اس فوٹیج کو کس طرح محفوظ کیا گیا اور اسے کس طرح دنیا کے سامنے لایا گیا، اس حوالے سے کئی مختلف وضاحتیں پیش کی گئی ہیں۔ مگر پولیس کو ایک بار پھر رنگے ہاتھوں پکڑنے کے امکانات ہوں تو جذبات میں بندہ آہی جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایوبی کا مذاق اڑانا دراصل دو مختلف تکنیک یا پیشوں سے وابستہ پیشہ ورانہ افراد کے مابین ہونے والی گفتگو کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ایوبی یہاں تفتیش کاروں کی جانب سے اپنے طریقہ کار کے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے، صرف تفتیش کاروں کے طریقے کے بارے میں جاننے کے لیے ان سے یہ سوال کررہے ہیں کہ ’آپ نے تشدد کرنا کہاں سے سیکھا؟‘

ان کے ثابت شدہ طنز مارنے اور طعنہ دینے کے شدید رجحان کو مدِنظر رکھیں تو انہوں نے یہی کہنا چاہا ہوگا کہ اے ٹی ایم میں چوری کے ارادے سے گھس آنے اور ساتھی انسانوں پر تشدد کرنے کی عادت لوگوں میں عمومی اور فطری طور پر پیدا ہوجاتی ہیں، بس اس کا انحصار ان حالات پر ہوتا ہے جو انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔

ان حالات پر بھی بات چیت کی گئی ہے جو اس صلاح الدین ایوبی کو جنم دیتے ہیں جسے ہم جانتے ہیں۔ اس کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار تھا اور اسے پہلے بھی متعدد بار پولیس پکڑ چکی ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ لاہور کے کسی ہسپتال میں ایوبی کی بیماری کا علاج کیا گیا تھا۔ گھر والوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ انہوں نے صلاح الدین ایوبی کے بازوؤں پر ان کا نام اور گھر کا پتہ اسی لیے چھپوایا تھا تاکہ جب کبھی وہ گم ہوجائے تو اس کی تلاش میں آسانی پیدا ہو۔

انہیں اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ موت سے پہلے ایوبی کو اتنی شہرت اور پہچان مل جائے گی جو لوگوں کو غمزدہ کردے گی۔

جیسے ہی قیدی کے غم میں ڈوبے ناظرین کے سامنے سفید بالوں والے والد کی تصاویر آئیں، تو لاہور سے آنے والی ایک خبر میں کہا گیا کہ مبینہ پولیس تشدد کی وجہ سے لوگوں کی موت کی خبریں فورس کی شرمندگی کا باعث بن رہی ہیں۔

اس محکمے کی بربریت کو ظاہر کرنے کی خاطر ایک بار پھر پولیس تشدد کے پرانے واقعات کی یاد تازہ کی جا رہی ہے جو ہماری روزمرہ زندگی کے کاموں میں مستقل مرکزی کردار رکھتا ہے۔ سراپا احتجاج افراد حالیہ رونما ہونے والے واقعات میں سے جس ایک واقعے کا حوالہ سب سے زیادہ دے رہے ہیں وہ کچھ ماہ قبل ساہیوال فائرنگ کا واقعہ تھا جس کے نتیجے میں لاہور سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان اپنے چند افراد سے محروم ہوگیا تھا مگر آس پاس کے لوگوں پر اس بات کا زیادہ فرق نہیں پڑا۔

ایک بار پھر احتساب، اصلاحات حتیٰ کہ بدلے کے باآواز بلند مطالبے کیے جا رہے ہیں۔ مگر وہ خواتین و حضرات جو جھوٹے پولیس مقابلے یا پولیس فائرنگ کے ناخوشگوار واقعات کا پولیس حوالات کے اندر قیدیوں کو نشانہ بناکر مارنے کے واقعات سے موازنہ کر رہے ہیں وہ یہ ایک اہم نکتہ بھول رہے ہیں۔

بہت ہی کم بار ایسا ہوتا ہے کہ جب پولیس کے اندھیرے قیدخانوں کے اندر مشتبہ افراد پر کام کرنے والے اہلکار مارنے کے ارادے سے تشدد کرتے ہیں۔ وہ تشدد کا استعمال ناپ تول کر کرتے ہیں تاکہ تشدد کا نشانہ بننے والے کی زندہ بچ جانے کی امید باقی رہے۔ ایک اوسط پاکستانی سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اس انداز میں نظام سے دغابازی کرے گا جس انداز میں صلاح الدین ایوبی نے مبینہ طور پر کی ہے۔


یہ مضمون 6 ستمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔