سینیٹ کمیٹی کو 44غیر منظورشدہ منصوبوں کو ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے پر تحفظات

07 ستمبر 2019

ای میل

کراچی کے منصوبے پانی کی فراہمی، سیوریج نظام اور انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے ہوں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی
کراچی کے منصوبے پانی کی فراہمی، سیوریج نظام اور انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے ہوں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: ترقیاتی پروگرام میں 44 غیرمنظورشدہ منصوبوں کو شامل کرنے پر سینیٹ کمیٹی کی تنقید کے باوجود وفاقی حکومت نے کراچی میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے آغاز کا وعدہ کرلیا تاکہ شہر قائد میں پانی کی فراہمی، سیوریج نظام اور انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا جاسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی اور ترقی آغا شاہزیب درانی اور سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے قائد ایوان شبلی فراز نے متفقہ طور پر اس پر تحفظات کا اظہار کیا کہ ترقیاتی قواعد اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اتنی بڑی تعداد میں غیرمنظور شدہ منصوبوں کو ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا۔

سینیٹر اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے آغا شاہزیب درانی نے ان 44 غیر منظور شدہ اسکیمز کو شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا، جنہیں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی دستاویزات میں شامل نہیں کیا گیا تھا جو سینیٹ اور قائمہ کمیٹی کو پیش کی گئیں۔

مزید پڑھیں: ایکنک اجلاس: کراچی کیلئے 95 ارب روپے کے 2 منصوبوں کی منظوری

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے بجٹ تجاویز پر اپنے اجلاسوں میں اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ صوبائی ڈومین کے تحت کوئی نیا منصوبہ اور غیرمنظور شدہ منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ اس طرح کے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرنا 'غیر آئینی' ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹ میں تحریک انصاف کے ہی لیڈ آف دی ہاؤس نے بھی اسکیموں کو حتمی شکل دینے کے لیے اپنائے گئے طریقے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

بعد ازاں سینیٹ کمیٹی نے سینیٹر میر کبیر محمد شاہی، رخصانہ زبیری اور ہدایت اللہ پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بنادی جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

کراچی کے منصوبے

اجلاس کے دوران کراچی کو بڑے پیمانے پر پانی فراہم کرنے کے منصوبے (کے 4) پر بھی بحث ہوئی، جس پر وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا منصوبے کو ڈیزائن کی سنگین خامیوں کا سامنا رہا اور اس کی لاگت کا تخمینہ 26 ارب روپے سے 130 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کو یومیہ تقریباً 1200 ملین گیلن (ایم جی ڈی) پانی درکار ہوتا ہے لیکن اس کو موجودہ فراہمی 500 ایم جی ڈی سے زیادہ نہیں اور اسے 700 ایم جی ڈی کمی کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بی آر ٹی منصوبے کیلئے 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر قرض منظور

انہوں نے کہا کہ تاخیر اور لاگت میں اضافے کی ایک وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت منصوبے کی فنڈنگ میں اپنا حصہ فراہم نہیں کر رہی۔

وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس منصوبے پر مدد کے لیے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی رابطہ کیا تھا اور کچھ روز قبل وہ عالمی بینک کی ٹیم کو کراچی لے کر آئے تھے۔

خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ حکومت نے کراچی کو پانی کی فراہمی، سیوریج، صفائی ستھرائی اور انفرااسٹرکچر کی ترقی کو ترجیح دی ہے اور وہ ان شعبوں میں جلد ہی 3 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کرے گی۔