مختلف خلاف ورزیوں پر 10 بینکوں کو 80 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ

07 ستمبر 2019

ای میل

اسٹیٹ بینک نے اگست کے مہینے کیلئے یہ جرمانہ کیا—فائل فوٹو: اے پی پی
اسٹیٹ بینک نے اگست کے مہینے کیلئے یہ جرمانہ کیا—فائل فوٹو: اے پی پی

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) کی دفعات کی خلاف ورزی پر 10 بینکوں کو جرمانہ کردیا۔

مجموعی طور پر ان تمام بینکوں کو 80 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ کیا گیا اور یہ تمام کارروائی اگست کے مہینے میں کی گئی۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، رضا باقر

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ہربینک پر عائد جرمانے کی رقم کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی وجوہات اور خامیوں کا بھی حوالیہ دیا گیا ہے جو ان جرمانوں کی وجہ بنی، اس کے ساتھ ہی اس چیز کا اعلان اگست کے اوائل میں کیا گیا تھا جو اب ایک معیاری عمل ہوگا۔

مرکزی بینک کی جانب سے سخت کارروائی اور جرمانے سمیت اسے عوام کے سامنے لانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اے ایم ایل/سی ایف ٹی کے معاملے پر ریگولیٹر فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی سخت ہدایات کے تحت عمل پیرا ہے تاکہ ملک کو گرے لسٹ سے باہر نکالنے میں مدد ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل ریفائنری کو 30 کروڑ روپے اسٹیٹ بینک کو ادا کرنے کا حکم

جرمانے پر نظر ڈالیں تو 32 کروڑ روپے سب سے بڑا جرمانہ ہے جبکہ اس کے بعد 15 کروڑ 92 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا اور باقی تمام اس رقم سے کم ہے، ان خلاف ورزیوں کی حد بندی اے ایم ایل/ سی ایف ٹی سے 'صارفین سے سروس چارجز کی غلط کٹوتی'، اپنے کسٹمرز کی پالیسی کی جانکاری کے ناقصد نفاذ سمیت اثاثوں کے معیار کی ناکافی نگرانی تک ہے۔

ایک کیس میں کی گئی خلاف ورزی میں بڑی رقم کی ٹرانزیکشن کی نگرانی کرنے میں ناکامی شامل ہے، جس میں اسٹیٹ بینک نے داخلی انکوائری کا حکم دیا ہے جبکہ ایک اور کیس میں 'غیرملکی زرمبادلہ کے قواعد کی خلاف ورزی جیسے درآمدی پیشگی ادائیگیوں پر پابندی، پیشگی ادائیگیوں کے خلاف برآمدی دستاویز اور دستاویزات کو جمع نہ کرانا' شامل ہے۔


یہ خبر 07 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی