آئی ایم ایف پروگرام اہداف پورے کرنے کی جانب گامزن ہے، حکومت کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2019

ای میل

حکومت کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کارکردگی بہت حوصلہ افزا ہے اور حکومت اپنے تمام مقرر کردہ اہداف  حاصل کرلے گی— فائل فوٹو: رائٹرز
حکومت کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کارکردگی بہت حوصلہ افزا ہے اور حکومت اپنے تمام مقرر کردہ اہداف حاصل کرلے گی— فائل فوٹو: رائٹرز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ دستخط شدہ اصلاحی ایجنڈا اپنی راہ پر گامزن ہے، مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کارکردگی بہت حوصلہ افزا ہے اور حکومت اپنے تمام مقرر کردہ اہداف حاصل کرلے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران تمام کارکردگی اور ساختی بینچ مارک بہت حوصلہ افزا ہیں اور تمام اہداف پورے ہوجائیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری اصلاحی پروگرام پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

خیال رہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب میڈیا میں یہ رپورٹس آئیں تھی کہ مالی سال 19-2018 کے اختتام پر بڑے خسارے کے باعث پروگرام سے متعلق دوبارہ بات چیت جاری ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو آئی ایم ایف پیکج کی پہلی قسط موصول

تاہم وزارت خزانہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تمام اہداف مکمل ہوجائیں گے اور اس پر آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی ضرورت نہیں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ میڈیا کو آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزور کے دورہ پاکستان سے متعلق غلط فہمی ہوئی۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے وزارت کے حکام جہاد آزور سے ملاقات کریں گے اور انہیں اب تک کے حاصل ہونے والے نتائج سے آگاہ کریں گے۔

اس کا مزید کہنا تھا کہ یہ دورہ توسیعی فنڈ سہولیات پروگرام کے حتمی ہونے کے فوری بعد ان کے ستمبر میں دورہ پاکستان کے تحت ترتیب دیا گیا تھا، تاہم میڈیا میں اسے نظر ثانی مشن قرار دیا گیا جبکہ ان کا یہ دورہ معمول کا ہے نظر ثانی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے د

وزارت نے کہا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد آئی ایم ایف سے تکنیکی بات چیت ہوگی جس میں دونوں فریقین اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹیریسا دابن سانشیز نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان کے لیے پروگرام کا دستاویزات میں تجویز شدہ کلینڈر کے اعتبار سے جائزہ لیا جائے گا اور یہ دسمبر میں شیڈول ہے۔

تاہم پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندے کی اس بات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جہاد آزور کی پاکستان آمد نظر ثانی مشن کے طور پر نہیں ہے۔

آئی ایم ایف کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ ٹیم کی پاکستان آمد معمول کے مطابق ہے اور اس کی ملاقات ملکی ممبران سے ہوگی۔