سال کے سب سے بولڈ فلمی مناظر سے بھرپور ’ہسلر‘

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2019

ای میل

ہسلر 13 ستمبر کو ریلیز کی جائے گی—فوٹو: انڈی وائر
ہسلر 13 ستمبر کو ریلیز کی جائے گی—فوٹو: انڈی وائر

دنیا میں 2 سال قبل شروع ہونے والی ’می ٹو مہم‘ کے بعد اگرچہ خواتین کو بولڈ اور جنسی طور پر پرکشش دکھانے والی فلموں میں کمی آئی ہے۔

تاہم جلد ہی ریلیز ہونے والی ہولی وڈ فلم ’ہسلر‘ میں خواتین کو نہ صرف بولڈ کردار دکھایا جائے گا بلکہ انہیں ایسے جرائم بھی کرتے ہوئے دکھایا جائے گا جنہیں دیکھنے کے بعد ممکنہ طور پر فلم کی ٹیم کو تنقید کا نشانہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ہسلر‘ کی کہانی کوئی فکشن نہیں بلکہ وہ ایک حقیقی واقعے سے لی گئی ہے۔

’ہسلر‘ فلم کی کہانی 2015 میں ’نیویارک میگزین‘ کے ذیلی میگزین ’دی کٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک تحقیقاتی مضمون سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔

فلم میں 50 سالہ جینیفر لوپیز کو انتہائی بولڈ انداز میں دیکھا جا سکے گا—اسکرین شاٹ
فلم میں 50 سالہ جینیفر لوپیز کو انتہائی بولڈ انداز میں دیکھا جا سکے گا—اسکرین شاٹ

فلم کی کہانی صحافی جیسیکا پریسلر کے 2015 میں لکھے گئے مضمون جو انہوں نے نیویارک کے ڈانس کلب میں کام کرنے والی چند خواتین کی بولڈ اور بلیک میلنگ پر مبنی زندگی کے حوالے سے تحریر کیا تھا، پر مبنی ہے۔

جیسیکا پریسلر اپنے مضمون میں نیویارک کے چند ڈانس کلبز میں پرفارمنس کرنے والی ایسی خواتین کی کہانیاں سامنے لائی تھیں جو 18 سال قبل سن 2000 میں امریکا میں آنے والے معاشی بحران سے تنگ آکر امیر مرد حضرات کو بلیک میل کرتی ہیں۔

مضمون میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح ڈانس کلبز میں بولڈ اور پول ڈانس کرنے والی خواتین امریکا میں معاشی بحران آنے کی وجہ سے غربت کی زندگی میں چلی گئی تھیں اور کس طرح لوگوں نے ڈانس کلبز میں آنا اور ان خواتین کے ساتھ پیسوں کے عوض وقت گزارنا چھوڑ دیا تھا۔

فلم کی کہانی خواتین ڈانسرز کے ایک گروہ کے گرد گھومتی ہے—اسکرین شاٹ
فلم کی کہانی خواتین ڈانسرز کے ایک گروہ کے گرد گھومتی ہے—اسکرین شاٹ

یہ مضمون امریکا میں بہت مقبول ہوا تھا اور اسی مضمون پر خاتون صحافی کو ایوارڈ بھی ملا تھا اور اب اسی ہی مضمون پر خاتون فلم ساز لورین سفاریا نے ’ہسلر‘ فلم بنائی ہے۔

لورین سفاریا نے ہی مضمون سے متاثر ہوکر اس فلم کی کہانی لکھی ہے اور اس میں معروف گلوکارہ و اداکارہ جینیفر لوپیز، کانسٹنس وو، جولیا اسٹائلز، کی کے پالمر، گلوکارہ کار ڈی بی، للی رنارٹ اور اداکارہ لیزو شامل ہیں۔

فلم میں یہ تمام خواتین ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں اور ان تمام اداکاراؤں و گلوکاراؤں نے ڈانس کلب کی ڈانسرز کا کردار ادا کیا ہے۔

فلم کو صحافی جیسیکا پریسلر کے مضمون سے متاثر ہوکر بنایا گیا—فوٹو: جیسیکا بلاگ
فلم کو صحافی جیسیکا پریسلر کے مضمون سے متاثر ہوکر بنایا گیا—فوٹو: جیسیکا بلاگ

فلم کا پہلا ٹریلر رواں برس جولائی میں جاری کیا گیا تھا، جس میں ان اداکاراؤں کو انتہائی بولڈ مناظر کے ساتھ امیر مرد حضرات کو بلیک میل کرتے ہوئے اور انہیں لُوٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس فلم کو رواں ماہ 13 ستمبر کو ریلیز کیا جائے گا، تاہم گزشتہ روز 7 ستمبر کو اسے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہونے والے ’ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ میں پیش کیا گیا تھا۔

ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں ’ہسلر‘ کی کہانی اور مناظر کو سراہا گیا اور اسے سال کے بہترین بولڈ مناظر والی فلم قرار دیا گیا۔

فلم کی ہدایات لورین سفاریا نے دی ہیں—فوٹو: ہولی وڈ رپورٹر
فلم کی ہدایات لورین سفاریا نے دی ہیں—فوٹو: ہولی وڈ رپورٹر

فلم کے جاری کیے گئے ٹریلر کے ابتدائی سین کو ماہرین نے سال کا سب سے بہترین ’عریاں سین‘ قرار دیا، جس میں گلوکارہ جینیفر لوپیز کو ساتھی اداکارہ کو پول ڈانس کی تربیت دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فلم نہ صرف اچھی کمائی کرنے میں کامیاب ہوگی بلکہ ’می ٹو مہم‘ کے بعد مرد و خواتین کے لیے پیدا ہونے والے خیالات کو بھی دور کرنے میں کامیاب جائے گی۔