رضاربانی کا اکادمی ادبیات کی گیلری سے شعرا کی تصاویر ہٹانے پر تحقیقات کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2019

ای میل

رضآربانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے نام خط لکھ دیا—فائل/فوٹو:ڈان
رضآربانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے نام خط لکھ دیا—فائل/فوٹو:ڈان

سینیٹ کے سابق چئیرمین اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سنیئر رہنما رضا ربانی نے اکادمی ادبیات کی گیلری سے اسداللہ خان غالب، فیض احمد فیض سمیت اردو کے دیگر مشہور شعرا کی تصاویر کو ہٹانے کا معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کافیصلہ کرتے ہوئے اس حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

رضاربانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ کے چیئرمین کے نام خط میں کہا ہے کہ 'اکادمی ادبیات کی گیلری سے فیض احمد فیض، اسداللہ خاں غالب، احمد فراز اور دیگر شعرا کی تصاویر کو ہٹانا حکومت کا متکبرانہ اور خوف ناک کردار ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ' ان شعرا کی تحریریں اور شاعری کے ترقی پسند پاکستان کے قیام اور سیاسی ترقی میں گہرے نقوش ہیں'۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ 'ان کی تصاویر ہٹانا شاید پہلا قدم ہے اسئ طرح حکومت اب پاکستان میں ان کی کتابوں پر پابندی یا ان کی کتابوں کو ہٹا سکتی ہے'۔

حکومت اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اگر آپ کسی ملک کے خلاف جنگ شروع چاہتے ہیں یا اس کو اندر سے تباہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی لائیبریریوں کا جلا دو اور اس کے ثقافتی ورثہ کو تباہ کردو، کیا وفاقی حکومت ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے'۔

رضاربانی نے اپنے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ 'اس معاملے پر فوری انکوائری کی ضرورت ہے متعلقہ عہدیداروں کے خلاف مثالی کارروائی کی جائے'۔

اپنے خط کے آخر میں سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ 'میں یہ خط سینیٹ آف پاکستان کی قومی ورثے کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو اس معاملے پر ازخود نوٹس لینے کے لیے لکھ رہا ہوں'۔

چئیرمین کمیٹی سے معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو آگاہ کرنا ہے کہ کیوں ان کے ثقافتی ورثے کو چرایا جارہا ہے۔