معیشت بہتر ہورہی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2019

ای میل

رضا باقر نے کاروباری برادی کو یقین دہانی کرائی کہ معیشت آہستہ آہستہ بہتر ہورہی ہے۔ — فائل فوٹو/ مصر کی برطانوی یونیورسٹی
رضا باقر نے کاروباری برادی کو یقین دہانی کرائی کہ معیشت آہستہ آہستہ بہتر ہورہی ہے۔ — فائل فوٹو/ مصر کی برطانوی یونیورسٹی

لاہور: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر رضا باقر نے لاہور میں کاروباری برادری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ مارکیٹ پر منحصر ایکسچینج ریٹ کا نہ ہونا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی کہ معیشت آہستہ آہستہ بہتر ہورہی ہے۔

پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے دفتر میں کاروباری برادری سے گفتگو کرتے ہوئے رضا باقر کا کہنا تھا کہ 'گزشتہ سالوں میں جب بھی تجارتی خسارہ بڑھا تو ایکسچینج ریٹ کو فکس نہیں کیا گیا اور اس کی وجہ سے خسارے میں اضافہ ہوا کیونکہ نظام میں مداخلت موجود تھی'۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، رضا باقر

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے طلب اور رسد پر نظر رکھنے کی یقین دہانی کے لیے پالیسی مرتب کرتے ہوئے مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ متعارف کروایا ہے'۔

اسٹیٹ بینک کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ مستحکم پالیسی کو ترجیح دینے کی وجہ سے ملک کی برآمدات میں 10 سے 20 فیصد اضافہ ہوا، حکومت نجی کاروبار کے منافع میں اضافہ اور روزگار بڑھانا چاہتی ہے اور اگر نجی شعبے کو عوامی شعبے سے مسائل ہیں تو حکومت انہیں حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم مقابلے پر یقین رکھتے ہیں، اس کے بغیر ہر ترقی نہیں کرسکتے، نجی شعبے کو آگے بڑھنا چاہیے اور اس ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے'۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی حکومت میں خارجہ پالیسی، معیشت برباد ہوگئی، بلاول بھٹو

انہوں نے کہا کہ 'اصلاحات کے متعارف کرائے جانے کے بعد سے ملک کی معاشی حالت سست رفتار پر بہتری کی جانب گامزن ہے، زیادہ عرصے پرانی بات نہیں کہ ملک کا غیر ملکی زرمبادلہ بیرونی قرضوں کے اعتراضات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی تھا جس کی وجہ سے ہم اصلاحات لائے اور آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور موثر پالیسی مرتب دیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ '6 ماہ قبل سے موازنہ کیا جائے تو اب صورتحال کافی بہتر ہے'۔