’روہنگیا شناخت‘ پر یونیورسٹی نے طالبہ کا داخلہ منسوخ کردیا

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2019

ای میل

غیرملکی طالبعلم  قوائد و ضوابط پورے کرنے کے بعد ملک میں پڑھ سکتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
غیرملکی طالبعلم قوائد و ضوابط پورے کرنے کے بعد ملک میں پڑھ سکتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی

بنگلہ دیش کی ایک یونیورسٹی نے ’روہنگیا شناخت‘ کے بعد ایک طالبہ کا داخلہ منسوخ کردیا۔

خبر ایجنسی اےایف پی کے مطابق بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کے لیے قائم تعلیمی اداروں میں داخلے کی گنجائش نہیں ہے۔

مزیدپڑھیں: میانمار میں روہنگیا کے خلاف مظالم پر کورٹ مارشل

کاکس بازار انٹرنیشنل یونیورسٹی نے رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 20 سالہ رحیمہ اختر خوشی کا داخلہ منسوخ کردیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ’مقامی میڈیا کی رپورٹس سے معلوم ہوا تھا کہ رحیمہ نے اپنی روہنگیا شناخت چھپا کر جامعہ میں داخل لیا تھا تاہم معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہے‘۔

تعلیمی ادارے کے سربراہ ابوالکشیم نے بتایا کہ ’ہمارے تعلیمی اداروں میں روہنگیا کو داخلہ نہیں مل سکتا کیونکہ وہ لوگ پناہ گزین ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’غیرملکی طالب علم قواعد و ضوابط پورے کرنے کی شرط پر پڑھ سکتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہزاروں افراد دربدر

ان کا کہنا تھا کہ ’روہنگیا طالبہ نے اپنے دستاویزات میں ظاہر کیا کہ انہوں نے چٹا گانگ کے ہائی اسکول سے اپنی تعلیم مکمل کی‘۔

دوسری جانب طالبہ رحیمہ نے بتایا کہ ’بنگلہ دیش کی نجی یونیورسٹی کے فیصلے سے وہ ذہنی طور پر بہت زیادہ منتشر ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی دوسری لڑکی ہوتی تو اب تک خود کو ختم کر چکی ہوتی لیکن میں صورت حال کا سامنا کرنے کی کوشش کررہی ہوں‘۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین رخائن سے 1990 میں ہجرت کرکے بنگلہ دیش پہنچے تھے اور وہ کوکس بازار میں پیدا ہوئیں اور وہی پرورش پائی۔

مزیدپڑھیں: روہنگیا مہاجرین کا باقاعدہ شناخت کے بغیر میانمار واپسی سے انکار

ان کا کہنا تھا کہ ’میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں لیکن سمجھ نہیں آتا یہ کیسے ہوگا‘۔

اس ضمن روہنگیا لیڈر مجید اللہ نے کہا کہ طالبہ کا داخلہ منسوخ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ قابلیت اور صلاحیت کا قتل ہو جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے پہلے ہی وسائل انتہائی محدود ہیں۔

یاد رہے کہ اگست 2017 میں بدھ اکثریت پر مشتمل میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی کریک ڈاؤن کی وجہ سے 7 لاکھ 40 روہنگیا ہجرت کر کے بنگلہ دیش آگئے تھے جہاں پہلے سے ہی 2 لاکھ پناہ گزین کیمپوں میں مقیم تھے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں نے میانمار کی جانب سے ان کو بحیثیت قوم تسلیم کرنے اور باقاعدہ شناخت دیے جانے کے اعلان سے قبل اپنے ملک واپس لوٹنے سے انکار کردیا تھا۔

پناہ گزینوں کا کہنا تھا کہ ’جب تک انصاف کی فراہمی، بین الاقوامی تحفظ، اور ان کے حقیقی گاؤں اور زمینوں پر جانے کے مطالبات پورے نہیں کردیے جاتے وہ واپس میانمار نہیں جائیں گے‘۔

مزید پڑھیں: ڈھائی لاکھ روہنگیا مہاجرین کو شناختی کارڈز فراہم کردیے گئے، اقوام متحدہ

گزشتہ سال نومبر میں وطن واپسی کے لیے شروع کیا گیا عمل اس وقت روک دیا گیا تھا جب کوئی روہنگیا میانمار واپس لوٹنے کے لیے آمادہ نہیں ہوا تھا۔

دوسری جان اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین اور دیگر امدادی گروہ بھی میانمار میں روہنگیا کے تحفظ کے سلسلے میں ان کی واپسی کے منصوبے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔