پائلٹس کی ہڑتال، برٹش ایئرویز کی برطانیہ سے تمام پروازیں منسوخ

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2019

ای میل

برطانوی پرواز اور اس کے 4300 پائلٹوں کے درمیان 9 ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی کا تنازع جاری ہے — اے ایف پی/فائل فوٹو
برطانوی پرواز اور اس کے 4300 پائلٹوں کے درمیان 9 ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی کا تنازع جاری ہے — اے ایف پی/فائل فوٹو

برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز (بی اے) کا کہنا ہے کہ پائلٹوں کی ہڑتال کے پہلے روز برطانیہ کے ایئرپورٹس سے انہیں اپنی تقریباً تمام پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بی اے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ 'تنخواہ کے تنازع کو حل کرنے کی کئی مہینوں کی کوششوں کے بعد اس صورتحال کا سامنا کرنے پر ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں'۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ برٹش ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (بلپا) سے بات چیت بحال کرنے کے خواہش مند ہیں۔

مزید پڑھیں: ’امریکی ایئرلائنز کیلئے جلد ایئرپورٹس کلیئر کردیے جائیں گے‘

ان کا کہنا تھا کہ 'بدقسمتی سے، پائلٹوں کی ہڑتال کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہ ہونے کی وجہ سے ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ کتنے افراد کام پر آئیں گے اور وہ کونسا طیارہ چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے پاس اپنی 100 فیصد پروازوں کو منسوخ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں'۔

برطانوی طیارے اور اس کے 4300 پائلٹ 9 ماہ کی تنخواہ کے تنازع میں گھرے ہیں جس کی وجہ سے 3 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

پائلٹ کل (منگل کو) بھی اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے اور انہوں نے 27 ستمبر کو بھی ہڑتال کرنے کی دھمکی دی ہے اور پھر ممکنہ طور تنازع برقرار رہنے پر پر سردیوں کی چھٹیوں کے قریب دوبارہ ہڑتال کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برٹش ایئر ویز کے سیکیورٹی خدشات دور کردیے، وفاقی وزیر ہوا بازی

بلپا نے 3 سال کے دوران تنخواہ میں 11.5 فیصد اضافے کو مسترد کردیا ہے جسے ایئرلائنز نے جولائی کے مہینے میں پیش کیا تھا۔

برٹش ایئرویز کا کہنا تھا کہ اس پیشکش سے فلائٹ کیپٹن کو دنیا کی بہترین تنخواہ اور مراعات ملیں گی جو تقریباً 2 لاکھ یورو سالانہ کے قریب ہوں گی۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایئرلائنز کے 90 فیصد ملازمین پر مشتمل دیگر 2 یونین نے 11.5 فیصد اضافے کو قبول کرلیا ہے۔