ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کررہا ہے، عالمی ادارہ صحت

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2019

ای میل

مجموعی طور پر سالانہ اوسطاً 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں— شٹر اسٹاک فوٹو
مجموعی طور پر سالانہ اوسطاً 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں— شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا بھر میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرلیتا ہے اور ہر سال اس وجہ سے کسی جنگ کے مقابلے میں سب سے زیادہ لوگ مرتے ہیں۔

یہ بات عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں بتائی۔

انسدادِ خودکشی کے عالمی دن (10 ستمبر) کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ پھانسی پر لٹک جانا، زہر کھانا اور بندوق کا استعمال خودکشی کرنے کے سب سے عام طریقے ہیں۔

عالمی ادارے نے دنیا بھر میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خودکشی کی روک تھام کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کریں اور لوگوں کو ذہنی تناﺅ پر قابو پانے میں مدد دیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سالانہ اوسطاً 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں زور دیا گیا کہ کیڑے مار ادویات پر پابندی کے ذریعے لوگوں کی زہر تک رسائی کم کرکے خودکشیوں کی شرح کو 70 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے بتایا گیا کہ 'خودکشیاں عالمی سطح پر عوامی صحت کا مسئلہ ہے، ہر عمر، جنس اور مذاہب کے افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کا نقصان بہت بڑا ہوتا ہے'۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ خودکشی 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے اور 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں جذباتی مسائل کے باعث خودکشی کرنا دوسری بڑی وجہ ہے۔

اس عمر کے لڑکوں میں خودکشی سے اموات، ٹریفک حادثات اور باہمی جھگڑوں کے بعد تیسری بڑی وجہ ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ہر سال 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں اور یہ تعداد ملیریا یا بریسٹ کینسر یا جنگ یا قتل وغیرہ سے زیادہ ہے۔

عالمی سطح پر حالیہ برسوں میں خودکشیوں کی شرح میں 9.8 فیصد کمی آئی ہے مگر اس حوالے سے اعداد و شمار پیچیدہ ہیں کیونکہ اس عرصے میں امریکا میں خودکشیوں کی شرح میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خودکشی کے مسئلے کی روک تھام ممکن ہے، بس حکومتوں کو اس حوالے سے حکمت عملی کو مرتب کرنا چاہیے اور انہیں نیشنل ہیلتھ اور تعلیمی پروگرامز میں شامل کرنا چاہیے۔