افغان امن عمل: طالبان سے مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

10 ستمبر 2019

ای میل

ٹرمپ نے طالبان کے حملے کی مذمت کی—فائل/فوٹو:اے ایف پی
ٹرمپ نے طالبان کے حملے کی مذمت کی—فائل/فوٹو:اے ایف پی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان نے 18 سالہ جنگ کو ختم کرکے اپنی فوج واپس بلانے کے لیے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو 'مردہ' قرار دے دیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ 'جہاں تک میرا تعلق ہے وہ مردہ ہوگئے ہیں'۔

افغانستان سے امریکا کے 14 ہزار فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم وہاں سے باہر آئیں گے لیکن ہم صحیح وقت پر باہر آئیں گے'۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے دو روز قبل افغان صدر اشرف غنی اور طالبان سے کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ خفیہ ملاقات کو منسوخ کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی سے امریکا کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔

مزید پڑھیں:افغان امن مذاکرات معطل: طالبان کی امریکا کو سخت نتائج کی دھمکی

بعد ازاں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیکل پومپیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امید ہے کہ طالبان اپنے رویے کو تبدیل کریں گے اور مذاکرات جہاں تک پہنچے تھے وہی سے شروع کریں گے اور اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے رپورٹرز سے گفتگو میں کہا کہ 'وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں لوگوں کو اس لیے مارا تاکہ مذاکرات میں اپنی پوزیشن بہتر بنا لیں جو ایک بڑی غلطی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری ملاقات طے تھی جو میرا آئیڈیا تھا اور منسوخ کرنا بھی میرا آئیڈیا تھا، میں نے اس حوالے سے کسی سے بات نہیں کی تھی'۔

افغانستان میں طالبان کے حملے میں امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت پر مذمت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے کیمپ ڈیوڈ ملاقات کو اس بنیاد پر منسوخ کیا کہ انہوں نے وہ کچھ کیا تھا جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا'۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں طالبان رہنماؤں سے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی خفیہ ملاقات کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ بات شاید کسی کو بھی معلوم نہیں کہ طالبان کے اہم رہنما اور افغان صدر مجھ سے کیمپ ڈیوڈ میں علیحدہ علیحدہ خفیہ ملاقاتیں کرنے والے تھے'۔

یہ بھی پڑھیں:امید ہے طالبان اب اپنا رویہ تبدیل کرلیں گے، پومپیو

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'وہ آج امریکا آرہے تھے، بدقستمی سے جھوٹے مفاد کے لیے انہوں نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے'۔

انہوں نے کہا کہ 'میں یہ ملاقات فوری طور پر منسوخ کرتا ہوں اور امن مذاکرات کو بھی معطل کرتا ہوں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ کیسے لوگ ہیں جو بارگیننگ پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسے مزید خراب کردیا ہے'۔

بعد ازاں طالبان نے اپنے ردعمل میں پہلے سے زیادہ خطرناک نتائج کی دھمکی دی اور کہا کہ امریکا کو اب مزید غیر معمولی نقصان کاسامنا ہوگا۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیا ہے تاہم اب امریکا کو پہلے کے مقابلے میں ’غیر معمولی نقصان‘ کا سامنا ہوگا لیکن پھر بھی مسقتبل میں مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رہیں گے۔

مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان رہنماؤں کی 'خفیہ ملاقات' منسوخ، افغان مذاکراتی عمل بھی معطل

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ امریکی ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے لیے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 18 برس پر مشتمل ہماری لڑائی سے امریکیوں پر یہ ثابت ہوچکا ہوگا کہ جب تک افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کا انخلا نہیں ہو گا اس وقت تک سکون نہیں ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی عظیم مقصد کے لیے ہ اپنے موجودہ ’جہاد‘ کو جاری رکھیں گے۔

طالبان نے انی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’کل تک امریکا کی مذاکراتی ٹیم پیش رفت سے راضی تھی اور گفتگو خوش گوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی تھی، فریقین معاہدے کے اعلان اور دستخط کی تیاریوں میں مصروف تھے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’معاہدے پر دستخط اور اعلان کے بعد ہم نے بین الافغان مذاکرات کی پہلی نشست کے لیے 23 سمتبر کا دن مقرر کیا تھا‘۔