پاکستان کا ریکوڈک کیس کا جرمانہ چیلنج کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2019

ای میل

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ جی آئی ڈی سی کابینہ کا فیصلہ تھا —تصویر؛ اے پی پی
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ جی آئی ڈی سی کابینہ کا فیصلہ تھا —تصویر؛ اے پی پی

اسلام آباد: وزیر توانائی عمر ایوب نے وضاحت کی ہے کہ جی آئی ڈی سی (گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس) آرڈیننس متعارف کروانے کا مقصد کھاد کی 5 کمپنیوں کا فرانزک آڈٹ کروا کر کھاد کی قیمتیں کم کرنا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ کابینہ کا فیصلہ تھا کہ کھاد کی کمپنیوں کا آڈٹ کر کے اور ان کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچ کر اس معاملے کو واضح کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جی آئی ڈی سی آرڈیننس کا اور کوئی مقصد نہیں تھا تاہم جب اس پر اعتراضات اٹھنا شروع ہوگئے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں حل کیا جائے کیوں کہ ہم ٹھیک ہیں اور شفاف طریقے سے کام کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گیس ڈیولپمنٹ انفرااسٹرکچر کیس: حکومت نے جلد سماعت کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا

ایک سوال کے جواب میں وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ جی آئی ڈی سی کے تحت حاصل کی جانے والی رقم، گیس انفرا اسٹرکچر کی ترقی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ریکوڈک اور کارکے کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کررہی تھی۔

تاہم پاکستان عالمی ثالثی فورم پر ایک اور کیس ہارنا نہیں چاہتا اس لیے کاروباری تنازعات کو حل کرنے کے لیے عدالت کے باہر سمجھوتہ ضروری ہے اور اقتصادی تعاون کمیٹی کے حالیہ فیصلے پر تنقید غیر ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان پہلے ہی کارکے اور ریکوڈک کیس کے معاوضے کے سلسلے میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرچکا ہے جبکہ اس کیس میں جو معاوضہ پاکستان کو ادا کرنا ہے وہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر ہے، جس کو ہم چیلنج کریں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا گیس انفرااسٹرکچر سرچارج سے متعلق آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ

وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ 9 دیگر انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) لندن کی عالمی ثالثی کی عدالت میں گئیں اور پاکستان کے خلاف 14 ارب روپے جیت لیے اگر ملک نے یہ ادائیگیاں کیں تو بیرونِ ملک موجود قومی اثاثے کم ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’بہت سے دیگر ممالک کو بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ معاملات ہمارے ساتھ ہوں اس وجہ سے ہم ان فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روش پاور کمپنی 425 میگا واٹ کا پلانٹ ہے، کمپنی نے ثالثی کے لیے رجوع کیا ہے، حکومت نے اس حوالے سے جامع تحقیقات کی ہیں اور کمپنی کا کیس میرٹ پر ہے اور اگر کمپنی تصفیہ کے لیے ثالث کے پاس جائے تو شاید اس کے حق میں فیصلہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: 210 ارب روپے کے 'جی آئی ڈی سی' کا خاتمہ مفت کا کھانا نہیں، وزیر توانائی

وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری حکومت مسائل کو ختم کر رہی ہے اور ہم تونائی کے شعبے کے مسائل کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئے جس سے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور کاروبار چلے گا۔