امریکی صدر سے اختلافات کے باعث قومی سلامتی کے مشیر 'فارغ'

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2019

ای میل

جان بولٹن نے کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں گیا ہے بلکہ وہ خود مستعفی ہونا چاہتے تھے — فائل فوٹو/ اے پی
جان بولٹن نے کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں گیا ہے بلکہ وہ خود مستعفی ہونا چاہتے تھے — فائل فوٹو/ اے پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے کو ان کے عہدے سے فارغ کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ 'میں نے جان بولٹن سے ان کا استعفیٰ مانگا تھا، جو انہوں نے صبح مجھے دے دیا ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں نے گزشتہ رات جان بولٹن سے کہا تھا کہ ان کی سروسز وائٹ ہاؤس کو مزید درکار نہیں ہیں’۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی جگہ نئے قومی سلامتی کے مشیر کا اعلان آئندہ ہفتے کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مارک ایسپر امریکا کے نئے سیکریٹری دفاع مقرر

امریکی صدر کی جانب سے جان بولٹن کو اس طرح عہدے سے ہٹائے جانے کے حوالے سے تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں تاہم انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ جان بولٹن کے 'موقف' سے انہیں 'اختلاف' تھا۔

بعد ازاں جان بولٹن نے عہدے سے فارغ کیے جانے کی رپورٹس کو مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغان طالبان سے امن مذاکرات معطل کرنے کے اعلان نے سب کو حیران کردیا تھا۔

واضح رہے کہ تجربہ کار جان بولٹن عراق میں جنگ اور دیگر خارجہ پالیسز سے متعلق لیے گئے فیصلوں کے حوالے سے متنازع شخصیت رہے ہیں۔

علاوہ ازیں انہیں ایران، وینزویلا اور دیگر متنازع معاملات میں مداخلت کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں اہم طاقت ور شخصیت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے ریکس ٹلرسن کو عہدے سے برطرف کردیا

یاد رہے کہ امریکی صدر کے ٹوئٹ سے کچھ ہی دیر قبل وائٹ ہاؤس کے پریس آفس نے کہا تھا کہ جان بولٹن کچھ ہی دیر بعد امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کے ہمراہ دہشت گردی کے مسئلے پر پریس کانفرنس کریں گے۔

دوسری جانب جان بولٹن نے کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں گیا ہے بلکہ وہ خود مستعفی ہونا چاہتے تھے۔

جان بولٹن نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ 'میں نے گزشتہ رات مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی جس پر امریکی صدر نے کہا تھا کہ کل بات کریں گے’۔

متعدد امریکی عہدیداروں کو ہٹایا گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ انہوں نے کسی امریکی عہدیدار کو اختلافات کے باعث عہدے سے ہٹایا ہو، وہ اس سے قبل متعدد عہدیداروں کے ساتھ ایسا کرچکے ہیں۔

مارچ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا: متنازع خاتون سی آئی اے کی نئی ڈائریکٹر مقرر

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ریکس ٹلرسن کی جگہ وہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کا نام دیں گے، جنہیں بعد میں یہ عہدہ دے دیا گیا تھا۔

اس سے قبل امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے 20 جولائی کو پینٹاگون میں ایک اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو احمق کہا تھا اور مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی۔

بعد ازاں عالمی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واقعے کے بعد نائب صدر مائیک پینس نے ٹلرسن سے بات کی تھی اور انہیں کم سے کم ایک سال تک اپنا عہدہ نہ چھوڑنے پر زور دیا تھا۔

نائب امریکی صدر کے علاوہ اس وقت کے ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری جان کیلی اور ڈیفنس سیکریٹری جیمس میٹس نے بھی ٹلرسن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلقات کو بہتر کرنے کی تجویز دی تھی۔

خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کے درمیان قطر اور شمالی کوریا کے معاملے پر بھی اختلافات منظر عام پر آئے تھے۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کو مشرق وسطیٰ اور افغانستان کے حوالے سے پالیسیوں میں اختلاف پر عہدے سے برطرف کردیا تھا اور اس کے بعد سے 7ماہ تک کسی بھی عہدیدار کو مستقل بنیادوں پر یہ ذمے داری نہیں سونپی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا متنازع شخصیت کو سی آئی اے ڈائریکٹر بنانے کا فیصلہ

بعد ازاں جولائی 2019 کو امریکی سینیٹ نے سابق فوجی مارک ایسپر کو سیکریٹری دفاع مقرر کرنے کی تصدیق کی تھی۔

یہ پینٹاگون کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ اتنے طویل عرصے تک کوئی بھی شخص سیکریٹری دفاع کی ذمے داریاں مستقل بنیادوں پر نبھانے کے لیے موجود نہ تھا جہاں اس دوران امریکا کو ایران سے تناؤ اور افغانستان سے انخلا میں مشکلات جیسے مسائل کا سامنا رہا۔