تنقید کے بعد یونیورسٹی کا طالبات کیلئے کیفےٹیریا میں الگ جگہ کا حکم واپس

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2019

ای میل

انتظامیہ نے تنقید کے بعد حکم واپس لیا—فائل فوٹو: یونیورسٹی آف واہ
انتظامیہ نے تنقید کے بعد حکم واپس لیا—فائل فوٹو: یونیورسٹی آف واہ

لاہور کی یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد کیفےٹیریا میں لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ اور خصوصی جگہ بنانے کا حکم واپس لے لیا۔

اس سے قبل یونیورسٹی کے رجسٹرار دفتر سے یونیورسٹی میں قائم تمام کیفےٹیریاز اور کینٹین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کے بیٹھنے کے لیے خصوصی جگہ کا قیام کریں۔

رجسٹرار دفتر سے 6 ستمبر کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں تمام کیفے ٹیریاز اور کینیٹین ٹھیکیداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فوری طور پر انتظامیہ کے حکم پر طلبہ و طالبات کے بیٹھنے کے لیے الگ الگ جگہ کا بندوبست کریں۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر اور دیگر عہدیدار کسی وقت بھی کیفے ٹیریاز اور کینیٹین کا وزٹ کریں گے اور لڑکوں اور لڑکیوں کے بیٹھنے کے لیے الگ جگہ نہ ہونے کی صورت میں مذکورہ کینیٹین اور کیفےٹیریا کو نوٹس جاری کیے بغیر بند کردیا جائے گا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے صنفی تفریق پر مبنی نوٹیفکیشن سامنے آنےکے بعد سوشل میڈیا پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

متعدد افراد نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کو جنسی تفریق پر مبنی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ 21 ویں صدی میں یونیورسٹی کی جانب سے ایسے فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ نئے پاکستان میں بھی لڑکے اور لڑکیوں کا ایک ساتھ بیٹھنا مسئلہ ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں لڑکے اور لڑکیوں کے ایک ساتھ بیٹھنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

ایک صارف نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’پڑوسی ملک بھارت کی انجنیئرنگ یونیورسٹیاں خلا میں تحقیقاتی مشن بھیج رہی ہیں اور پاکستانی یونیورسٹیاں ان سے زیادہ اہم مسئلے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

لوگوں کی تنقید کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے 2 دن بعد نیا نوٹیفکیشن جاری کیا اور کہا کہ پہلا نوٹیفکیشن وائس چانسلر کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا۔

پہلے فیصلے کو معطل کرنے والے نوٹیفکیشن میں کیفے ٹیریاز اور کینیٹین انتظامیہ کو حکم دیا گیا کہ 6 ستمبر والے حکم نامے کو نظر انداز کیا جائے۔