پاک-چین مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر کا ذکر ہونے پر بھارت کو تشویش

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2019

ای میل

بھارت کو پاکستان اور چین کے مشترکہ اعلامیے پر تشویش ہے—فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز
بھارت کو پاکستان اور چین کے مشترکہ اعلامیے پر تشویش ہے—فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز

بھارت نے چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی کے دورہ پاکستان کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر کا ذکر کرنے پر تشویش کا اظہار کردیا۔

خیال رہے کہ وانگ ژی 7 اور 8 ستمبر کے دوران پاکستان کے دورے پر تھے اور اس دوران انہوں نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات بھی کی تھی، جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا تھا۔

بھارتی اخبار 'دی ہندو' کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پاک-چین مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کو آزاد کشمیر میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق سرگرمیاں بند کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم چینی وزیر خارجہ کے حالیہ دورے کے دوران چین اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں جموں و کشمیر کا حوالہ مسترد کرتے ہیں کیونکہ جموں و کشمیر بھارت کا اہم حصہ ہے'۔

مزید پڑھیں: ’جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کیلئے چین اہم کردار ادا کرسکتا ہے‘

رویش کمار کا کہنا تھا کہ 'بھارت نے آزاد جموں و کشمیر میں سی پیک کے منصوبوں پر پاکستان اور چین دونوں سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ بھارت کا حصہ ہے اور اس پر غیر قانونی طور پر پاکستان نے 1947 سے قبضہ کر رکھا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم تمام متعلقہ جماعتوں سے اس طرح کے کام کو بند کرنے کی درخواست کرتے ہیں'۔

پاک چین مشترکہ اعلامیہ

واضح رہے کہ پاکستان اور چین نے 8 ستمبر کو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چینی اور پاکستانی فریقین نے اتفاق کیا کہ سی پیک ون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا بنیادی حصہ ہے اور ترقی کے نئے مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستانی اور چینی فریقین نے اتفاق کیا تھا کہ ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال جنوبی ایشیا، تمام فریقین کے مشترکہ مفاد میں ہے، اس سلسلے میں فریقین کو خطے میں موجود تنازعات اور مسائل کو باہمی احترام اور برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور پاک-بھارت بڑھتی کشیدگی پر اظہارتشویش

ساتھ ہی دونوں اطراف سے سی پیک کی تعمیرات، موجودہ منصوبوں کی وقت پر تکمیل اور سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ دینا، روزگار پیدا کرنا اور بہتر زندگی کو مزید آگے بڑھانے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا جبکہ صنعتی پارکس اور زراعت میں تعاون کو بڑھانے پر بھی آمادگی کا اظہار کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وانگ ژی سے ملاقات میں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، اپنے تحفظات اور انسانی حقوق کے مسائل سے آگاہ کیا۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پوری توجہ دے رہے ہیں، کشمیر تاریخ کا ایک تنازع ہے جسے اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی قونصل کی متعلقہ قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چین، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو پیچیدہ بنانے والے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔