’چین، افغان امن عمل کی کامیابی کیلئے ہر اقدام کی حمایت کرے گا‘

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2019

ای میل

پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے سی پیک کانفرنس سے خطاب کیا—تصویر اسکرین شاٹ
پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے سی پیک کانفرنس سے خطاب کیا—تصویر اسکرین شاٹ

پشاور: پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جِنگ نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے بے نتیجہ اور اچانک اختتام پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین، افغانستان کے امن عمل کی کامیابی کے لیے ہر اقدام کی حمایت کرے گا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں 18 سال سے جاری طویل جنگ کے پُرامن اختتام کے لیے امریکا اور طالبان کے مابین گزشتہ برس سے بات چیت کے متعدد ادوار ہوچکے تھے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 ستمبر کو افغان صدر اشرف غنی اور طالبان سے علیحدہ علیحدہ کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ خفیہ ملاقات کو منسوخ کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن عمل: طالبان سے مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے جواب میں طالبان نے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی سے امریکا کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔

اس صورتحال پر پاکستان نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات معطل ہونے پر تمام فریقین سے تحمل سے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔

جامعہ پشاور میں 2 روزہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) بی آر ٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین انفراسٹرکچر اور توانائی کے بعد پاکستان کے ساتھ صنعتی اور تجارتی تعلقات بھی بڑھانے کا خواہش مند ہے۔

مزید پڑھیں: پاک-چین مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر ہونے پر بھارت کو تشویش

اس موقع پر چینی سفیر یاؤ جِنگ نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد طورخم کو 24 گھنٹے کھلے رکھنے کا بھی خیر مقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین طورخم سرحد پر کولڈ اسٹوریج، ہسپتال اور کسٹم کی سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ چینی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پشاور اور کراچی کو ملانے والی موٹروے کی جلد تکمیل چین کی دیرینہ خواہش ہے۔

اپنے خطاب میں چینی سفیر نے بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس ضمن میں چینی سفیر کا کہنا تھا کہ کشمیر پر بین الاقوامی معاہدے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر پر چین کا ’موقف داخلی امور میں مداخلت‘ قرار

خیال رہے کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے 7 اور 8 ستمبر کو حالیہ دورہ پاکستان کے بعد 8 ستمبر کو مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پوری توجہ دے رہے ہیں، کشمیر تاریخ کا ایک تنازع ہے جسے اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی قونصل کی متعلقہ قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نےمزید کہا تھا کہ چین، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو پیچیدہ بنانے والے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔