ای میل

بدترین پریس سینسرشپ والے 10 ممالک

پریس سینسر شپ والے ممالک عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، سی پی جے—فوٹو: شٹر اسٹاک
پریس سینسر شپ والے ممالک عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، سی پی جے—فوٹو: شٹر اسٹاک

صحافیوں اور صحافتی اداروں پر عائد پابندیوں اور آزادی صحافت کے حوالے سے کام کرنے والی امریکی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ (سی پی جے) نے پریس سینسر شپ والے 10 بدترین ممالک کی فہرست جاری کردی۔

سی پی جے نے دنیا بھر کے 10 ممالک میں صحافیوں اور صحافتی اداروں کے حوالے سے بدترین ممالک کا جائزہ لیا۔

تنظیم نے مختلف ممالک میں صحافیوں کے خلاف ریاستی تشدد، ان کی کڑی نگرانی کرنے، انہیں کوریج کی اجازت نہ دینے، اغوا کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے سمیت ان کے اہل خانہ کو بھی کڑی نگرانی میں رکھنے اور ان کے خلاف مختلف اقسام کے حربے استعمال کرنے جیسے عوامل کا جائزہ لیا ہے۔

تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بدترین پریس سینسرشپ کے حامل ممالک میں اقوام متحدہ کے 1946 میں منظور کیے جانے والے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی شق 19 اے کی خلاف ورزی جاری ہے اور انہوں نے صحافتی اداروں اور صحافیوں پر قدغن لگا رکھی ہے۔

بدترین پریس سینسرشپ والے 10 ممالک میں زیادہ تر ایشائی ممالک ہے جب کہ فہرست میں افریقی، امریکی و یورپی ملک بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ ترممالک میں صحافیوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں تشدد کے واقعات جاری ہیں اور ان کی سوشل میڈیا کی نگرانی سمیت ہر طرح کی کڑی ڈجیٹیل نگرانی کی جا رہی ہے اور انہیں ریاست اور حکومت مخالف مواد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

10 - کیوبا

—فوٹو: شٹر اسٹاک
—فوٹو: شٹر اسٹاک

جزیرہ نما کیریبین ملک کیوبا کو دنیا میں امریکا کے حامی ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، تاہم یہ پریس سینسرشپ والے 10 بدترین ممالک میں بھی شامل ہے۔

09 - بیلاروس

—فوٹو: بی بی سی
—فوٹو: بی بی سی

سابق سوویت یونین کا حصہ رہنے والے مشرقی ملک بیلاروس کو لوگ پر امن ملک کے طور پر جانتے ہیں مگر وہاں بھی بدترین سینسر شپ ہے اور یہ سی پی جے کی فہرست میں 9 ویں نمبر ہے۔

08 - استوائی گنی

—فوٹو: افریقن میڈیا ایجنسی
—فوٹو: افریقن میڈیا ایجنسی

وسطی افریقا کے کم آبادی والے ملک استوائی گنی کو پسماندہ ترین اور کرپٹ ترین ممالک میں بھی شمار کیا جاتا ہے، اندازے کے مطابق اس ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کرتی ہے اور یہاں بدترین پریس سینسرشپ بھی ہے۔

07 - ایران

جنوب مغربی ایشیائی ملک ایران کو ویسے بھی عام طور پر اظہار رائے پر پابندی والے ممالک میں شمار کیا جاتا رہا ہے، مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والا یہ ملک پریس سینسرشپ کے 10 بدترین ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

06 - ویتنام

سوشلسٹ ایشیائی ملک ویتنام کا شمار بھی بدترین پریس سینسر شپ والے ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں پر صحافیوں کے خلاف ریاستی جبر بھی کیا جاتا ہے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

05 - چین

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک اور دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار کیے جانے والے چین میں جہاں سوشل میڈیا کی بھی دیسی پلیٹ فارم موجود ہیں، وہیں وہاں پر صحافیوں پر بھی سنگین پابندیاں ہوتی ہیں۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

04 - سعودی عرب

مشرق وسطیٰ اور اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب کو عام طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سینسرشپ کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ ملک پریس سینسر شپ کے حوالے سے بدترین ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

03 - ترکمانستان

وسطی ایشیائی ملک ترکمانستان کو سی پی جے نے صحافیوں اور صحافتی اداروں کے حوالے سے 10 بدترین ممالک میں تیسرے نمبر پر رکھا ہے اور اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس ملک میں معلومات کو عوام تک پہنچانے میں حکومتی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

02 - شمالی کوریا

ایٹمی تجربات کی وجہ سے دنیا بھر سے مخالفت کا سامنا کرنے والے ملک شمالی کوریا کو ہمیشہ ہی صحافت پر قدغن لگانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جاتے رہیں اور سی پی جے نے اسے پریس سینسرشپ کے حوالے دنیا کے دوسرے بدترین ملک کے طور پر رپورٹ میں شامل کیا ہے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

01 - ایریٹریا

—فوٹو: شٹر اسٹاک
—فوٹو: شٹر اسٹاک

سوڈان، ایتھوپیا اور جبوتی کا پڑوسی ملک اریٹریا پریس سینسرشپ کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے، یہاں پر ایساس افورقی 1993 سے ملک کے صدر ہیں، جنہوں نے صحافتی اداروں اور صحافیوں پر سنگین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

بدترین سینسرشپ والے ممالک میں صحافیوں کی کڑی ڈیجیٹل نگرانی کی جا رہی ہے، سی پی جے—فوٹو: اے ایف پی
بدترین سینسرشپ والے ممالک میں صحافیوں کی کڑی ڈیجیٹل نگرانی کی جا رہی ہے، سی پی جے—فوٹو: اے ایف پی