پیپلز پارٹی کا فضل الرحمٰن کے احتجاج کی ’اخلاقی‘ حمایت کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2019

ای میل

ظلم برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن بیانیہ نہیں بدلیں گے— فوٹو: ڈان نیوز
ظلم برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن بیانیہ نہیں بدلیں گے— فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد میں دھرنے کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔

جامشورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کا فیصلہ خود کیا ہے تاہم میں ان کی حمایت کروں گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں ہوں گے لیکن وہ اس سلسلے میں پورے ملک کا دورہ کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے طویل دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہونے کے باوجود دھرنا سیاست میں شریک نہیں ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کی حکومت میں خارجہ پالیسی، معیشت برباد ہوگئی، بلاول بھٹو

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان، پی اے ٹی سربراہ طاہر القادری اور تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی نے دھرنے کی سیاست کی ہے۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور معاملات کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں۔

’مسئلہ کشمیر پر سودے بازی برداشت نہیں کرسکتے‘

مسئلہ کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی اور اس مسئلے پر کسی بھی طرح کی سودے بازی برداشت نہیں کرسکتے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس معاملے میں کسی بھی طرح کی کوتائی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘نا اہل حکمران غلطی پر غلطی کر رہے ہیں جبکہ حکومت غیر جمہوری رویے اپنا رہی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: موجودہ حکومت میں کشمیریوں کو حقوق دلوانے کی اہلیت نہیں، بلاول

ان کا کہنا تھا کہ 'نااہل وزیراعظم نے ملکی معیشت تباہ کی جبکہ عمران خان کا یوٹرن لینا روز کا معمول بن گیا ہے'۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم اور اس کے پارٹی رہنماؤں کا کام صرف فوٹو سیشن کروانا ہے۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ ’پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک طرح کی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے، ہمارے وزیراعظم نے کشمیریوں کی آواز بننے کی کوشش ہی نہیں کی۔‘

’ظلم برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں، بیانیہ نہیں بدلیں گے‘

دوران گفتگو چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ان کا بیانیہ ایک ہی ہوگا، وہ کٹھ پتلی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی ظلم برداشت کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ اپنے موقف میں بالکل تبدیلی نہیں لائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے، وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ ہمارے لوگوں پر مقدمات بنا کر ہمیں بلیک میل کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: عثمان بزدار میں ایسا کیا تھا جو انہیں وزیر اعلیٰ بنادیا، بلاول بھٹو

صوبہ سندھ کے بارے میں چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں جگہ جگہ دل کا مفت علاج ملتا ہے، وسائل نہ ہونے کے باوجود حکومت سندھ مسائل کے حل کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کلین کراچی مہم میں کچرا ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا جس کے باعث بارشوں کے دوران شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ شہر قائد کے مسائل حل کرنے کے لیے سندھ حکومت کو لوکل گورنمنٹ اسٹرکچر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔