کشمیری رہنماؤں سے رابطے کیے جائیں، امریکا کا بھارت سے مطالبہ

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2019

ای میل

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان مورگن اورٹاگس نے یہ بات ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہی — فائل فوٹو: اےا یف پی
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان مورگن اورٹاگس نے یہ بات ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہی — فائل فوٹو: اےا یف پی

واشنگٹن: امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ کشمیری رہنماؤں کے ساتھ سیاسی روابط بحال کیے جائیں اور متنازع علاقے میں جس قدر جلد ممکن ہو وعدے کے مطابق انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان مورگن اورٹاگس نے بھارت پر زور دیا کہ کشمیر میں بحالی کے لیے کچھ اہم اقدامات کیے جائیں جو 5 اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے یک طرفہ طور پر مقبوضہ وادی کی ختم کی گئی خصوصی حیثیت کے بعد سے کرفیو کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’مقامی رہنماؤں سے سیاسی رابطے بحال کرنے اور وعدے کے مطابق جلد انتخابات کے لیے ہم بھارتی حکومت کے منتظر ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:کشمیر کے معاملے پر پاک-بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

مورگن اورٹاگس کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ’کو سیاسی و تجارتی رہنماؤں کی گرفتاریوں سمیت بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں اور مقامی افراد پر نافذ پابندیوں پر سخت تشویش ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں مذکورہ خطے میں انٹرنیٹ اور موبائل فونز تک رسائی پر پابندی کے حوالے سے بھی تشویش لاحق ہے‘۔

ترجمان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم حکام پر زور دیتے ہیں کہ انسانی حقوق کا احترام کریں جبکہ انہیں انٹرنیٹ اور موبائل فونز جیسی سہولیات تک رسائی بحال کی جائے‘۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام، جو بھارت کے غیر قانونی قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں، ان کی شکایات دور کرنے کے بجائے امریکا کی جانب سے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ اس بات غماز ہے کہ واشنگٹن کو جموں و کشمیر کی صورتحال پر اب بھی تحفظات ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: امریکا کا گرفتار افراد کو رہا، حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

اس مطالبے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا، بھارت کی جانب سے وادی کشمیر کی صورتحال معمول پر ہونے کے دعوے سے اتفاق نہیں کرتا۔

قبل ازیں پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا تھا۔

اس حوالے سے واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ بھارت کے سخت اعتراضات کے باوجود ٹرمپ کا میڈیا میں ثالثی کی پیشکش کرنا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔