وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر 'حادثاتی جنگ' کے خطرے سے خبردار کردیا

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2019

ای میل

وزیر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس خطرے کا اظہار کیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس خطرے کا اظہار کیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

جنیوا: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ایک 'حادثاتی جنگ' کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ پر زور دیا کہ وہ اس سورش زدہ علاقے کا دورہ کریں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل سیشن کی سائڈ لائن پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں 'تنازع کے نتائج کو جانتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: 'بھارت، مقبوضہ کشمیر میں بنیادی اور ناقابل تنسیخ انسانی حقوق کو روند رہا ہے'

تاہم نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق گزشتہ ماہ اٹھانے جانے والے اقدامات پر انہوں نے خبردار کیا کہ 'آپ حادثاتی جنگ کو خارج از امکان نہیں قرار دے سکتے' کیونکہ 'اگر یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو کچھ بھی ممکن ہے'۔

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو متنازع علاقے کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کردیا تھا اور وہاں فوجی لاک ڈاؤن سمیت موبائل، انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کردیا تھا، جو تاحال معطل ہے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی تھی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ایک بین الاقوامی تحقیقات کا آغاز کریں۔

صحافیوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے مشیل بیچلیٹ سے بات کی اور انہیں دعوت دی کہ وہ بھارت اور پاکستان، دونوں کے علاقوں کا دورہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ 'انہیں دونوں مقامات کا دورہ کرنا چاہیے اور اس طرح رپورٹ کرنا چاہیے جیسے وہ کرسکتی ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ اصل صورتحال کیا ہے'۔

وزیر خارجہ کے مطابق مشیل بیچلیٹ نے کہا تھا کہ وہ 'دورے کی خواہاں ہیں'۔

تاہم ان کے دفتر سے جب اس کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا گیا تو فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

علاوہ ازیں شاہ محمود قریشی نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے دوطرفہ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'جو سوچ ہم نئی دہلی کی دیکھ رہے ایسے ماحول میں مجھے دو طرفہ بات چیت کے لیے کوئی جگہ نظر نہیں آرہی'۔

انہوں نے کہا کہ ایک کثیر الجہتی فورم یا ایک تیسرے فریق کی ضرورت ہوگی، لہٰذا 'اگر امریکا کردار ادا کرتا ہے تو یہ اہم ہوسکتا ہے کیونکہ اس کا خطے میں کافی اثرورسوخ ہے'۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان نے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرلی

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

بی جے پی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق نریندر مودی کی حکومت کے فیصلے پر پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور دوطرفہ تجارت معطل کردیئے تھے، بھارتی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ بھارت جانے والی ٹرین اور بس سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔

علاوہ ازیں گزشتہ دنوں پاکستان نے آئس لینڈ جانے کے لیے بھارتی صدر کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت سے متعلق درخواست بھی مسترد کردی تھی۔