ایل این جی کیس: شاہد خاقان، مفتاح اسمٰعیل کے جسمانی ریمانڈ میں 'آخری مرتبہ' توسیع

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2019

ای میل

شاہد خاقان عباسی کی پیشی کے موقع پر لیگی رہنما بھی موجود تھے—فوٹو: اسکرین شاٹ
شاہد خاقان عباسی کی پیشی کے موقع پر لیگی رہنما بھی موجود تھے—فوٹو: اسکرین شاٹ

احتساب عدالت نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو 'آخری مرتبہ' جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمنل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے۔

نیب کی جانب سے اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 2018 میں اسے دوبارہ کھولا گیا۔

اس سلسلے میں آج احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی، اس دوران شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ انعام الحق کو پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیں: نیب نے شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک اور ریفرنس کی سفارش کردی

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی اور زور دیا کہ یہ ضروری ہے، جس پر شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے کہا کہ عدالت ہر ہفتے ہمارے موکل سے ملنے کے لیے 2 روز مقرر کرے کیونکہ نیب ہمیں ملنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

اس پر جج نے استفسار کیا کہ کیا نیب کے پاس اتنی جگہ ہے کہ ملاقات ہو سکے جس پر عدالت میں موجود شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ جی بالا کل نیب کے پاس جگہ موجود ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 'نیب کو مطمئن کرنے کے لیے ریمانڈ میں 90 روز کی ہی توسیع کردی جائے'۔

عدالت میں مفتاح اسمٰعیل کے جسمانی ریمانڈ کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جہاں نیب نے جسمانی ریمانڈ میں استدعا کی۔

اس دوران ملزم کے وکیل نے کہا کہ نیب ملزم کو اہل خانہ سے ملنے کی اجازت ہی نہیں دے رہا، نیب نے 23 گھنٹے تک مفتاح اسمٰعیل کو اکیلے رکھا، کم سے کم انہیں شاہد خاقان عباسی کے ساتھ کھانا کھانے دیا جائے۔

وکیل نے کہا کہ پہلے ہی 11 دن کا ریمانڈ دے چکے ہیں اور اب مزید 14 دن کا ریمانڈ نہ دیا جائے، اس پر پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور مفتاع اسمٰعیل کا کیس ایک ہی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب کو 26 ستمبر تک شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسمٰعیل کے جسمانی ریمانڈ میں رکھنے کی اجازت دے دی۔

ساتھ ہی 56 روز سے شاہد خاقان عباسی کے نیب کی حراست میں ہونے پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ 'عدالت آخری مرتبہ ریمانڈ میں توسیع کر رہی ہے' اور اس کے بعد مزید جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جائے گا۔

علاوہ ازیں عدالت میں نیب کی جانب سے شیخ انعام الحق کا جسمانی معائنہ مکمل ہونے سے متعلق بتایا گیا اور کہا گیا کہ ان کے ذیابیطس کے ٹیسٹ بھی کرلیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے جسمانی ریمانڈ میں بھی توسیع کردی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب کراچی نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف پاکستان اسٹیٹ آئل میں مبینہ طور پر غیر قانونی تعیناتی سے متعلق ایک اور ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی تھی۔

نیب کے اعلامیے میں کہا گیا کہ شاہد خاقان عباسی نے مبینہ طور پر وفاقی حکومت کے مقررہ کردہ طریقہ کار اور قوانین کی خلاف وزری کرتے ہوئے شیخ عمران الحق کو پی ایس او کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

نیب نے اپنے اعلامیہ میں دعویٰ کیا تھا کہ تحقیقات سے ’انکشاف‘ ہوا کہ عمران الحق کی پی ایس او میں بطور منیجنگ ڈائریکٹر تعیناتی محض سابق وزیر پیٹرولیم سے ’ذاتی تعلقات‘ کی بنیاد پر ہوئی۔

نیب کراچی نے بتایا تھا کہ عمران الحق کو منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کرتے وقت ان کی تعلیمی اور پیشہ وارانہ قابلیت کی جانچ نہیں کی گئی تھی۔

اس ضمن میں نیب نے تحقیقات کا حوالہ دیا اور کہا تھا کہ شیخ عمران الحق نے 2013 سے 2015 کے درمیانی عرصے میں ایل این جی ٹرمینل کی تعمیرات کے دوران اس وقت کے وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات قائم کیے تھے۔