امریکی جنگ نہ لڑتے تو پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک نہ ہوتا، وزیر اعظم

12 ستمبر 2019

ای میل

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں امریکا کے کامیاب نہ ہونے کا الزام پاکستان پر لگانا غیر منصفانہ ہے — اسکرین شاٹ
وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں امریکا کے کامیاب نہ ہونے کا الزام پاکستان پر لگانا غیر منصفانہ ہے — اسکرین شاٹ

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکا کے کامیاب نہ ہونے کا الزام پاکستان پر لگانا غیر منصفانہ ہے اور دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو روسی ٹی وی آر ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، ہم نے 70 ہزار جانیں گنوائیں اور 100 ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوا۔

مزید پڑھیں: افغان امن عمل: طالبان سے مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکا کی اس جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا اور میں شروع سے ہی اس جنگ کے خلاف تھا کیونکہ اگر ہم نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ نہ لڑتے تو اس وقت ہم دنیا کا خطرناک ملک نہ ہوتے۔

عمران خان نے کہا کہ اتنے نقصانات کے باوجود آخر میں امریکا کی ناکامی پر ہمیں ہی قصوروار ٹھہرایا گیا اور امریکا اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے، یہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کو ‘بدترین’ طریقے سے نشانہ بنائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

وزیراعظم نے کہا کہ سوویت یونین کےخلاف جنگ کا فنڈ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے دیا تھا اور پاکستان نے مجاہدین کو تربیت دی، ایک عشرے بعد جب امریکا افغانستان گیا تو کہا گیا کہ یہ جہاد نہیں دہشت گردی ہے، یہ بہت بڑا تضاد تھا جسے میں نے محسوس کیا.

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جب پاکستان، امریکا کا اتحادی بنا تو یہ گروپس بھی ہمارے خلاف ہوگئے۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان امن عمل کے سلسلے میں طابان سے جاری مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کردیا تھا جس سے افغانستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور پاکستان نے بھی اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔