دنیا کا سیاہ ترین میٹریل تیار کرلیا گیا

13 ستمبر 2019

ای میل

نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں ہیرے پر اس میٹریل کی کوٹنگ کی گئی — فوٹو بشکریہ انگیجیٹ ڈاٹ کام
نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں ہیرے پر اس میٹریل کی کوٹنگ کی گئی — فوٹو بشکریہ انگیجیٹ ڈاٹ کام

سائنسدانوں نے حادثاتی طور پر ایسا میٹریل تیار کرلیا جو کہ سیاہ ترین ہے اور 99.995 فیصد تک روشنی کو جذب کرلیتا ہے۔

میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے انجنیئرز نے اس میٹریل کو کاربن نانو ٹیوبز (سی این ٹیز) کی مدد سے تیار کیا اور اس کی دریافت حادثاتی طور پر ہوئی۔

بنیادی طور پر یہ سائنسدان سی این ٹیز کو برقی موصل میٹریل جیسے المونیم کی مدد سے اگانے کے طریقوں پر تجربات کررہے تھے تاکہ اس کی برقی اور تھرمل خوبیوں کو بڑھایا جاسکے، مگر اس میٹریل کی رنگت نے ٹیم کو حیران کردیا اور اس وقت انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے سیاہ ترین رنگت والا میٹریل تیار کرلیا ہے۔

اس دریافت کو گزشتہ دنوں نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں آزمایا گیا جہاں موجود 16.78 قیراط کے قدرتی زرد ہیرے پر اس میٹریل کی کوٹنگ کردی گئی، جس کے بعد جگمگاتے ہیرے کی ساری شاہ و شوکت سیاہ رنگ میں گم ہوگئی۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق اس میٹریل کو عملی اپلائنسز پر بھی آزمایا جاسکتا ہے اور اس سے خلائی دوربینوں کے فنکشنز کو بھی مدد مل سکے گی۔

ایم آئی ٹی کے اس میٹریل سے قبل وانٹا بلیک نامی میٹریل کو سیاہ ترین کا اعزاز حاصل تھا۔

برطانوی سائنسدانوں کا تیار کردہ یہ میٹریل 99.96 فیصد تک روشنی جذب کرلیتا اور انفراریڈ کو بھی اپنے اندر سے گزرنے نہیں دیتا۔

2017 میں محققین نے ایک یوٹیوب ویڈیو میں بتایا 'ایک ہائی پاور لیزر پوائنٹر بھی اس میٹریل کے پیچھے موجود کسی چیز کو دکھانے میں ناکام رہتا ہے، ہم نے اس سے پہلے اتنا سیاہ میٹریل کبھی تیار نہیں کیا تھا'۔

وانٹا بلیک کا ایک نمونہ — اسکرین شاٹ
وانٹا بلیک کا ایک نمونہ — اسکرین شاٹ

اس میٹریل کو 2014 میں تیار کیا گیا تھا مگر اب اسے پہلی بار 2017 میں ایک اسپرے کی شکل میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔

اور ہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کوئی پینٹ یا کپڑا نہیں بلکہ کروڑوں کاربن نینو ٹیوبز سے تیار کردہ خصوصی کوٹنگ ہے۔

جب روشنی اس اسپرے سے رنگی ہوئی کسی چیز سے ٹکراتی ہے تو وہ نینو ٹیوبز کے خلا میں داخل ہوتی ہے اور وہاں پھنس کر جذب ہوجاتی ہے۔