’حکومت تبدیلی کی جانب مثبت قدم اٹھارہی ہے‘

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2019

ای میل

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل خواتین کو جائیداد میں اپنے حصے کے حصول کو یقینی بنانے کا باعث بنے گا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل خواتین کو جائیداد میں اپنے حصے کے حصول کو یقینی بنانے کا باعث بنے گا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فروس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ حکومت حقیقی تبدیلی کی جانب مثبت قدم اٹھارہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے سلسلہ وار پیغامات میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کروایا جانے والا 'سول ضابطہ اخلاق ترمیمی بل اور قانونی مدد و انصاف اختیارات ترمیمی بل' کی وجہ سے لوگوں کو فوری انصاف مہیا ہوسکے گا۔

سول ضابطہ اخلاق ترمیمی بل سے متعلق ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے ایسا ہوا کرتا تھا کہ ایک نسل مقدمہ درج کرتی تھی اور وہ چلتا ہوا تیسری نسل تک پہنچ جاتا تھا اور وہاں پہنچ کر اس کا فیصلہ ہوا کرتا تھا۔

مزید پڑھیں: 'فردوس عاشق اعوان تڑپ رہی ہیں، ان کی نوکری جانے والی ہے'

انہوں نے مزید کہا کہ تاہم اب سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ صرف 2 سال کی مدت کے اندر کرنے کی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ سمن کے اجرا، وصولی اور عدالتی حاضری سے لے کر شہادتیں ریکارڈ کروانے کے عمل تک ہر مرحلے کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نظریہ اور وزیراعظم عمران خان کا مقصد ہے۔

خواتین کے حقوق سے متعلق اپنے پیغام میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’اسلام میں خواتین کو دستیاب وراثتی حق معاشرتی اور قانونی پیچیدگیوں کی نذر ہو چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فردوس عاشق اعوان کا رانا ثناء اللہ کو 2 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس

انہوں نے مزید کہا کہ ’تاہم ریاست مدینہ کی طرز پر تشکیل دیے جانے والے معاشرے کے لیے پر عزم وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں تشکیل پانے والا یہ قانون خواتین کو جائیداد میں اپنے حصے کے حصول کو یقینی بنانے کا باعث بنے گا۔‘

لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ترمیمی بل پر بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’کئی دہائیوں سے پاکستانی جیلوں میں قید خصوصاً خواتین، بچے اور دیگر مستحق و نادار قیدی قانونی مدد کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مقدمات کی پیروی سے قاصر تھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے کندھوں پر ان بے گناہ اور معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اتھارٹی کے قیام سے اب ایسے قیدیوں کے لیے انصاف کی فوری طور پر فراہمی کا خواب اب حقیقت میں تبدیل ہوجائے گا۔