پاک-افغان تجارت بڑھانے کیلئے 24 گھنٹے طورخم سرحد کھولنے کے انتظامات مکمل

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2019

ای میل

ٹرمینل کو 24 گھنٹے ساتوں دن ٹرائل بنیاد پر چلایا جارہا ہے — فائل فوٹو: اے پی
ٹرمینل کو 24 گھنٹے ساتوں دن ٹرائل بنیاد پر چلایا جارہا ہے — فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) نے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون سے طورخم سرحد ٹرمینل کے ذریعے افغانستان سے 24 گھنٹے تجارت کے انتظامات مکمل کرلیے ہیں اور اسے ٹرمنل کو آئندہ ہفتے کھولے جانے کا امکان ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمینل کو 24 گھنٹے ساتوں دن ٹرائل (آزمائشی) بنیاد پر چلایا جارہا ہے اور اسے طورخم پر ایک تقریب کے دوران باضابطہ طور پر کھولا جائے گا۔

اس ٹرمینل کو جدید بنانے کے لیے یہاں تعمیرات کا آغاز جون میں افغان صدر کے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان سے سرحد پار تجارت میں نرمی کی درخواست کے بعد ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: پاک-افغان سرحد پر فائرنگ کے خلاف دفترخارجہ کا افغانستان سے احتجاج

اس حوالے سے این ایل سی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس اہم پیش رفت سے افغانستان کو نمایاں فوائد حاصل ہوں گے، یہ اقدام برآمدات اور درآمدات میں سہولت فراہم کرے گا اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان پیدل سفر کرنے والوں کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوگی اور پاک افغان ٹرانزٹ تجارت بڑھے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2 ارب 60 کروڑ ڈالر سالانہ کی باہمی تجارت ہوتی ہے۔

بیان کے مطابق این ایل سی نے کسٹمز، نادرا، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور فرنٹیئر کورپس سمیت دیگر محکموں کیلئے کارگو اور مسافروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹرمینل کے لیے کنٹینرز، بیگ اسکینر، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، لائٹنگ اور دیگر سامان نصب کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طورخم سرحد ٹرمینل سے دو طرفہ مسافروں اور کارگو کی نقل و حرکت میں تبدیلی رونما ہوگی اور سرحد پار دہشت گردی، غیر قانونی تجارت، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب ٹرمینل کو چلانے والے این ایل سی نے دعویٰ کیا کہ وہ نہ صرف سرحدی انتظامات میں اہم ادارہ بن چکا ہے بلکہ اسمگل شدہ اشیا کی درآمدات کو بھی روکنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان سرحد کے 900 کلومیٹر حصے پر باڑ لگانے کا کام مکمل

حکام کے مطابق دن اور رات کی 2 شفٹوں میں کام کرنے والے سرحدی ٹرمینل سے پشاور کے ہسپتالوں میں علاج کے لیے سرحد پار سے بڑی تعداد میں آنے والے افغانوں کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ '40 فٹ لمبے کنٹینرز کا معائنہ کرنے کے لیے اسکینرز کی تعداد بڑھا کر 2 کردی گئی ہے جبکہ اضافی بیگج اسکینر بھی ایک سے بڑھا کر 2 کردیے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ نئے ٹرمینل پر تمام سرکاری محکموں کو ایک پلیٹ فارم دیا جائے گا اور یہ اقدامات اسمگلنگ کم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔