بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی تائید ہے، وزیر خارجہ

16 ستمبر 2019

ای میل

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کیے جانے پر سپریم کورٹ کی رائے ضروری ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کیے جانے پر سپریم کورٹ کی رائے ضروری ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنے سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا حکم پاکستان کے موقف کی تائید ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں نجی ٹی وی چینل 'اے آر وائی' نیوز سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ بہت بڑی کامیابی اس لیے ہے کیونکہ مودی سرکاری یہ کہتی آئی ہے کہ کشمیر کے حالات بالکل معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور وہاں کوئی پریشانی لاحق نہیں تاہم بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی تائید ہے کہ وہاں انتشار اور کرفیو ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس موقف کی تائید ہے کہ وہاں مواصلاتی نظام معطل ہے، وہاں لوگوں کے حقوق سلب کیے جارہے اور ہزاروں قید ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی سپریم کورٹ کا مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنے کا حکم

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی انتظامیہ نے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کو سری نگر ایئرپورٹ سے واپس لوٹا دیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں جانے کی اجازت دینا ایک پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی وفد کو وہ اجازت دیتے ہیں تو وہ وہاں جائیں اور کشمیری قیادت سے ملیں تو وہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے بتائیں کہ حالات کیا ہیں اور دنیا کو آئینہ دکھائیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اہم ہے، اس فیصلے کی روح سے انہیں اور میڈیا کو اجازت دینی چاہیے جو وہاں تمام معاملات کو رپورٹ کرے اور پھر بھارتی سپریم کورٹ کرفیو ہٹانے کا فیصلہ دے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کیے جانے پر سپریم کورٹ کی رائے ضروری ہے، اس پر انسانی حقوق کونسل، یورپین یونین اور امریکی کانگریس بحث کر رہی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر مودی سرکاری کے عملدرآمد سے متعلق ان کا کہنا تھا اگر وہ اس پر عملدرآمد نہیں کرتے تو پھر وہاں کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا، پھر وہ قانون پر عملدرآمد کی بات نہیں کرسکتے، پھر دنیا دیکھے گی کہ وہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور عدالتی احکامات کو وہ پامال کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستان کے موقف پر مہر لگ گئی اور یہ پاکستان کی سیاسی فتح ہے، ہم اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے جب تک کرفیو نہیں اٹھتا اور لوگوں کو اپنی رائے کی آزادی نہیں ملتی۔

وزیر خارجہ کے بیان سے کچھ دیر قبل بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو کہا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں بینچ نے مقبوضہ وادی میں مودی سرکار کے آرٹیکل 370 واپس لینے اور میڈیا پر قدغن لگانے کے خلاف مختلف درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو وادی میں تعلیمی سرگرمیاں اور کشمیریوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ 'متنازع قانون' کے تحت گرفتار

اس کے ساتھ ہی بھارتی چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر وہ خود مقبوضہ کشمیر جائیں گے اور صورتحال کو دیکھیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد سے درجنوں کشمیری سیاست دان اور رہنماؤں کو گرفتار یا نظربند کردیا تھا، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ، موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند اور بعد ازاں گرفتار کرلیا تھا جو 40 روز سے زائد گزرنے کے باوجود تاحال زیرحراست ہیں۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔