نوجوان پر تشدد کے الزام میں ڈولفن اسکواڈ کے 2 اہلکار برطرف

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2019

ای میل

واقعے کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد آئی جی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے فیلڈ آفیسر کو انکوائری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ — فیس بک/فائل فوٹو
واقعے کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد آئی جی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے فیلڈ آفیسر کو انکوائری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ — فیس بک/فائل فوٹو

ڈولفن اسکواڈ کے 2 اہلکاروں کو کیولری گراؤنڈ میں نوجوان پر مبینہ تشدد کرنے کے پر برطرف کردیا گیا۔

واضح رہے کہ صوبائی دارالحکومت میں عوام پر تشدد کا یہ دوسرا واقعہ سامنے آیا ہے۔

مبینہ تشدد کی ویڈیو قریب سے گزرنے والی موٹرسائیکل پر نصب کیمرے میں ریکارڈ ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ ڈولفن اسکواڈ کے اہلکار نواجوان کو سڑک کنارے موٹرسائیکل کھڑی کرنے پر تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔

ویڈیو کا دورانیہ 30 سیکنڈ کا تھا۔

مزید پڑھیں: خاتون کی ہلاکت پر ڈولفن فورس کے 4 اہلکار گرفتار

پنجاب کے انسپیکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) عارف نواز خان نے ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فیلڈ آفیسر کو انکوائری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

تاہم ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (آپریشنز) اشفاق خان نے ڈولفن ٹیم 302 کے دونوں افسران کو معطل کرتے ہوئے ڈولفن اسکواڈ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) بلال ظفر کو ان کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں سے بدتمیزی میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پریس ریلیز کے مطابق نوجوان سڑک پر ون وہیلنگ کر رہا تھا اور اس کے خلاف نصیر آباد تھانے میں کیس بھی رجسٹر کیا گیا تھا۔

رواں ماہ ہی ایک اور واقعے میں ڈولفن فورس نے گلبرگ کے علاقے میں دوا لے کر گھر جانے والے نوجوان کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: ڈولفن فورس کی مبینہ فائرنگ، 2 بچوں سمیت 4 راہ گیر زخمی

حکام نے زخمی نوجوان کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے اسے تھانے لے جاکر تشدد کو نشانہ بھی بنایا تھا۔

اس سے قبل حکام کو ویڈیو فوتیج میں بند روڈ پر ایک شاپ کیپر پر تشدد کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔

گزشتہ سال ڈولفن ٹیم نے گلشن راوی میں ذہنی معذور شخص کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا۔

افسران نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اپنے دفاع میں مذکورہ شخص کے پاس چاقو تھی جس سے اس نے وار کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس ہی سال بند روڈ پر ڈولفن اہلکاروں اور مشتبہ ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک کم عمر راہگیر جاں بحق ہوگیا تھا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس ظفر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈولفن اہلکاروں کے معاملے سے نمٹنے کے لیے نئے کورسز متعارف کرائے ہیں اور اس اقدام کے نتائج سامنے آرہے ہیں کیونکہ شکایتوں کی تعداد کم ہورہی ہے۔