صلاح الدین کیس: 'ہائیکورٹ جج کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ چیف جسٹس کرینگے'

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2019

ای میل

صلاح الدین ایوبی کو اے ٹی ایم میں مبینہ چوری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا—اسکرین شاٹ
صلاح الدین ایوبی کو اے ٹی ایم میں مبینہ چوری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا—اسکرین شاٹ

لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کے رجسٹرار نے کہا ہے کہ مبینہ اے ٹی ایم کارڈ چور صلاح الدین کی پولیس حراست میں ہلاکت کے معاملے میں جوڈیشل انکوائری کے لیے ہائی کورٹ کا جج نامزد کرنے کی پنجاب حکومت کی درخواست پر فیصلہ چیف جسٹس کی وطن واپسی کے بعد کیا جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو 11 ستمبر کو لکھے گئے خطر میں پنجاب حکومت نے کہا تھا کہ پولیس حراست میں صلاح الدین ایوبی کی موت کے حقائق اور حالات کی جوڈیشل انکوائری کے لیے ایک رکنی ٹریبونل کے قیام کے لیے ہائی کورٹ کے جج کو نامزد کیا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 5 ستمبر کو حکومت نے ایک علیحدہ خط میں معاملے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے ایک جوڈیشل افسر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: صلاح الدین ہلاکت کیس: جوڈیشل انکوائری کا حکم، ڈی پی او معطل

اس پر لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے کہا کہ ایک سینئر سول جج پہلے ہی صلاح الدین کی موت کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صلاح الدین ایوبی کی موت کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا۔

گوجرانوالہ کے رہائشی صلاح الدین ایوبی کو 31 اگست کو مبینہ طور پر اے ٹی ایم سے کارڈ چوری کے الزام میں رحیم یار خان سے گرفتار کیا تھا۔

ضلعی پولیس افسر کے ترجمان ذیشان رندھاوا نے کہا تھا کہ صلاح الدین ایوبی جب لاک اپ میں تھے اور عجیب حرکتیں کررہا تھا کہ 'اچانک ان کی طبیعت خراب' ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس نے صلاح الدین ایوبی کو تشدد کا نشانہ بنایا، والد کا دعویٰ

انہوں نے کہا تھا کہ انہیں بیہوشی کی حالت میں شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔

صلاح الدین ایوبی کی موت کے بعد کیس میں مبینہ طور پر غفلت برتنے پر رحیم یار خان سٹی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) عباس اختر کو سروس سے معطل کردیا گیا تھا جبکہ ڈی پی او رحیم یار خان عمر فاروق سلامت کو بھی عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

اس کے بعد انویسٹی گیشن سپرنٹنڈنٹ پولیس حبیب اللہ خان کو ڈی پی او آفس کا اضافی چارج دیا گیا تھا، تاہم متاثرہ شخص کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب سے شکایت کی تھی کہ متعلقہ افسر مبینہ طور پر کیس میں اثر انداز ہورہے، جس پر ان کا بھی تبادلہ کردیا گیا تھا۔