بچوں کے رویوں کو سمجھنے کا 'تعلق میٹر' - پہلی قسط

17 ستمبر 2019

ای میل

بچوں کی شخصیت کو نہ سمجھنے سے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں—فوٹو: ہارٹ مائنڈ آن لائن
بچوں کی شخصیت کو نہ سمجھنے سے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں—فوٹو: ہارٹ مائنڈ آن لائن

حلیمہ اب 12برس کی ہوگئی تھی لیکن اس کی والدہ اس کے حوالے سے بہت فکر مند تھیں، پریشانی کی وجہ حلیمہ کا بہت تلخ، جارح مزاج ہونا اور دیگر بہن بھائیوں سے اس کی مسلسل لڑائیاں تھیں، ہروقت کا رونا دھونا، شکایتیں، بدتمیزی، اور دیگر مسائل جو بڑھتے ہی جارہے تھے۔

سختی، نرمی، پیار، غصہ، لگتا تھا ہر چیز حلیمہ کے مزاج اور رویے کو ٹھیک کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی تھی، یوں گھر کا ماحول بھی کافی نا خوشگوار اور سکون سے خالی ہوتا جارہا تھا۔

حلیمہ اور اس کی امی کی پریشانی جیسے دیگر کیسز بھی یقیناً آپ کے مشاہدے اور علم میں ہوں گے۔

انہی مسائل کو سمجھنے اور والدین کو مدد فراہم کرنے کے لیے ایک کونسلنگ و سائیکو لوجیکل ٹول 'تعلق میٹر' کو بنانے اور استعمال کرنے کا موقع ملا۔

اصل میں بچوں کے بیشتر مسائل ماں، باپ اور بچے کے درمیان گہرے، گرم جوش، قریبی اور محبت بھرے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

یہ مسائل بچوں کو ان کے مسائل اور ایشوز، ان کی شخصیت، ان کے دوستوں، اون لائن مصروفیات اور زندگی کے دیگر دائروں یا پہلوؤں کو نہ سمجھنے سے بننا شروع ہوتے ہیں اور اگر ان پہلوؤں کو سمجھا نہ جائے تو یہ آہستہ آہستہ بچوں کی سوچ، رویے اور جذبات میں خرابی کا باعث بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئیڈیل والدین کی 7 عادات

'تعلق میٹر' دراصل ایک ایسا نفسیاتی ٹول ہے جو والدین کو بڑھتے بچوں اور ٹین ایجرز (یعنی 13سے 19 سال کے لڑکے و لڑکیاں) کے بدلتے جسمانی، جذباتی اور سماجی رویوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ آگاہی اور انڈر اسٹینڈنگ والدین اور بچوں کو ذہنی، جذباتی و قلبی اور روحانی طور پر جوڑنے میں بنیاد کا کردار ادا کرتی ہے۔

'تعلق میٹر' کے 5 پہلو ہیں جن پر ہم الگ الگ اقساط میں گفتگو کریں گے۔ آج کی قسط بچے یا ٹین ایجر کو جاننے، سمجھنے اور اس کی شخصیت پہچاننے کے حوالے سے ہے۔

تعلق میٹر کی پہلی کیٹگری – بچے سے واقفیت

بچوں کی شخصیت سے واقفیت ہی ماحول خوشگوار بنا سکتی ہے—فوٹو: ٹی این این
بچوں کی شخصیت سے واقفیت ہی ماحول خوشگوار بنا سکتی ہے—فوٹو: ٹی این این

والدین کے لیے بچوں سے تعلق کو بہتر، خوشگوار اور گرم جوش بنانے کے لیے سب سے بنیادی عمل اپنے بچے سے واقفیت، اس کی شخصیت سے شناسائی اور مکمل پہچان پیدا کرنا ہے۔

'تعلق میٹر' اس کے لیے آپ کو پانچ سوال پر سوچنے اور کام کرنے کا کہتا ہے۔ ان بنیادی پانچ پہلوؤں سے آپ بچے کی شخصیت سے متعلق تقریباً تمام ڈیٹا جمع کر لیں گے۔ یہ ڈیٹا پھر شخصیت کی معلوماتی بنیاد (انفارمیشن بیس) بنانے اور اسے سمجھنے کا کام دے گا۔

1- بیٹا یا بیٹی کی پانچ پسندیدہ ترین چیزیں (کھیل، کام وغیرہ) کیا ہیں؟

بچوں کی پسندیدہ چیزیں عموماً وہ ہوتی ہیں جو وہ خوشی خوشی کرتے ہیں، آپ کو بار بار اس کے لیے کہنا اور زور دینا نہیں پڑتا بلکہ ایک دفعہ میں ہی بچے اسے فوراً کر دیتے ہیں۔ اسے کرتے ہوئے بچے خوشی کی کیفیت میں ہوتے ہیں، ان کا موڈ خوشگوار اور چہکار و ہنسی والا ہوجاتا ہے۔

2 - پانچ نا پسندیدہ ترین چیزیں کیا ہیں؟

بچوں کی ناپسندیدہ چیزیں عموماً وہ ہوتی ہیں جو وہ ایک دفعہ کہنے پر نہیں کرتے بلکہ آپ کو وہ باربار کہنا پڑتی ہیں، کئی دفعہ چلانا بھی پڑتا ہے یا زبردستی کرانا پڑتا ہے، اسے کرتے ہوئے بچے عموماً روتے، چلاتے اور اس چیز یا کام سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔

3 - بچے کی پرسنالٹی ٹائپ کیا ہیں؟

پرسنالٹی ٹائپ دراصل بچے کی فطری شخصیت ہے یعنی ان کے سیکھنے کا فطری اسٹائل(دیکھ کر سیکھنا،کر کے سیکھنا، سن کر سیکھنا وغیرہ) کیا ہے؟

دوسروں سے تعلقات کی نوعیت کیا رہتی ہے (یعنی گھلنا ملنا یا الگ تھلگ رہنا، باہر جا کر خوش رہنا یا گھر میں رہ کر وغیرہ)؟

معلومات حاصل کرنے کےلیے لوجیکل ذرائع استعمال کرتا ہے یا وجدانی, منظم زندگی گزارنے میں آسانی محسوس کرتا ہے یا غیر منظم میں؟ وغیرہ

مزید پڑھیں: 5 دائرے جہاں ٹیکنالوجی بچوں کو کمزور کر رہی ہے

بچوں کی پرسنالٹی ٹائپ جاننے کے لیے مختلف ٹولز بھی موجود ہیں جیسے ایم بی ٹی آئی(MBTI) ٹیسٹ, ملٹی پل انٹیلیجنس ٹیسٹ و دیگر۔ یہ ٹیسٹ بنیادی طور پر مغربی معاشرے کے حوالے سے بنائے گئے ہیں تاہم بچے کی پرسنالٹی کی بنیادی معلومات فراہم کرنے میں بہت مددگار ہیں۔

4 - بیٹا یا بیٹی کی پانچ بڑی خوبیاں کیا ہیں؟

یعنی فطری طور پر وہ کن چیزوں میں اچھا ہے، مثلاً جسمانی سرگرمیوں میں بہترین ہے یا اس کا ذہن تیز ہے وغیرہ؟

5 - بیٹا یا بیٹی کی پانچ بڑی خامیاں کیا ہیں؟

یعنی فطری طور پر کن چیزوں میں وہ کمزور ہے جیسے جسمانی طور پر کمزور ہے، خیال رکھنے والا نہیں ہے وغیرہ؟

'بچے سے واقفیت' کی کیٹگری میں موجود سوالات کے جوابات سے آپ جتنا ناواقف ہیں اتنا ہی آپ کے اور بچے کے درمیان جذباتی، ذہنی اور روحانی رابطہ کم ہونے کا امکان ہے۔

اس کا ایک واضح نتیجہ بچے کا گھر میں باغی رویے، لڑائی جھگڑے، رشتے داروں سے تنازع اور ان جیسے دیگر مسائل کی صورت سامنے آ سکتا ہے۔

(تعلق میٹر کے تفصیلی ٹیسٹ و پرسنالٹی ٹیسٹ کے لیے آپ بلاگر سے ای میل پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں)


فرحان ظفر 10 سال سے لکھنے لکھانے سے وابستہ ہیں۔

اپلائڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کونسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔