احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے، فریال تالپور

17 ستمبر 2019

ای میل

فریال تالپور کو لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے لایا گیا تھا— ڈان نیوز
فریال تالپور کو لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے لایا گیا تھا— ڈان نیوز

کراچی : رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے حکومت کی جانب سے احتساب کے نام پر سایسی انتقام کا نشانہ بنانے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم احتساب پر یقین رکھتے ہیں مگر احتسام سب کا ہونا چاہیے۔

سندھ اسمبلی سے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد رہائی نہ ملنے پر جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی زیر حراست سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مزید پڑھیں: فریال تالپور رات گئے ہسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل

فریال تالپور کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو احکامات جاری کیے تھے کہ انہیں اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے رہا کیا جائے۔

پیر کو فریال تالپور ایک عرصے بعد سندھ اسمبلی میں آئیں تو حکومتی اراکین نے ان کا ڈیسک بجا کر استقبال کیا۔

اپنے خطاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے کہا کہ وہ ان تمام اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کرتی ہیں جنہوں نے ان کے پڑوڈکشن کے لیے قرارداد پیش کی اور اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے پر لاہور ہائیکورٹ کی بھی شکر گزار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: یو اے ای کی کاروباری شخصیت وعدہ معاف گواہ بن گئی

سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فریال تالپور نے کہا کہ احتساب کے نام جس طرح لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں وہ انتہائی شرمناک ہے، ہم احتساب پر یقین رکھتے ہیں مگر احتساب سب کا ہونا چاہیے۔

انہوں نے لوگوں کو احتساب کے نام پر تنگ کرنا بند کیا جائے، ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں کہ لوگ پاکستان میں رہنا چھوڑ دیں اور یہی حالات رہے تو لوگ ملک میں رہنا چھوڑ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیاستدانوں اور کاروباری حضرات کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رہا تو ملک معاشی تباہی کا شکار ہو جائے گا۔

فریال تالپور نے کہا کہ مجھ پر جو مقدمات چل رہے ہیں ان میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، ہم پہلے ڈرے ہیں نہ آج ڈر رہے ہیں، ہم نے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے زمانے سے یہ سب کچھ جھیلا ہے لیکن من پسند اور یکطرفہ احتساب پر ہمیں افسوس اور تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان جیلوں اور جھوٹے الزامات سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ سب کچھ ہم نے پہلے بھی برداشت کیا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے مسئلہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی میں کشمیر کے معاملات میں خود دیکھتی ہوں، کشمیریوں کے لیے ہماری حکومت حقیقت میں کچھ نہیں کر سکی، ہم نے صرف بڑی باتیں کی مگر ہم کہیں گئے اور نہ ہی کسی سے اس حوالے سے مدد مانگی۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: فریال تالپور، آصف زرداری کے ریمانڈ میں 5 ستمبر تک توسیع

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ تمام معاملات میں کشمیر کا مسئلہ سب سے اہم ہے لیکن افسوس ہے کہ اس حوالے سے کچھ نہیں کیا جارہا ہے، نہ کسی ملک کے پاس نہیں گئے، ہمیں کشمیر کے لیے کچھ اور کرنا چاہیے، مسئلہ کشمیر ایک نازک معاملہ ہے جس پر حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی کے شہید ہونے والے جوانوں کے خاندانوں سے افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ امید ظاہر کی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے ملک میں استحکام پیدا ہو گا۔

فریال تالپور نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی ہے اور امید ہے وہ ملک کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

خیال رہے کہ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے خلاف نیب کے دائر کردہ ریفرنسز کا سامنا کررہے ہیں۔