پی ٹی وی حملہ کیس: علیم خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

اے ٹی سی جج  نے سماعت میں نہ پیش ہونے پر علیم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
اے ٹی سی جج نے سماعت میں نہ پیش ہونے پر علیم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبدالعلیم خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے انہیں 2014 کے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ ہاؤس حملہ کیس کے سلسلے میں 30 ستمبر سے قبل ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اے ٹی سی کے جج راجا جواد عباس حسن نے ضمانت ہونے کے باوجود سماعت میں مسلسل عدم حاضری پر علیم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

اس ضمن میں ایڈووکیٹ شاہد نسیم گوندل نے علیم خان کی جانب سے درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کے موکل راولپنڈی میں ایک دوسرے کیس کے باعث مصروف تھے اور ان کے معاون وکیل، علیم خان کی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے استثنیٰ درخواست نہیں دائر کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی وی حملہ کیس: پی ٹی آئی رہنما علیم خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

اس کے ساتھ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ علیم خان آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔

جس پر عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے 30 ستمبر کو ہونے والی آئندہ سماعت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ پولیس نے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان، صدر عارف علوی، وزیر دفاع پرویز خٹک، سابق وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر تعلیم شفقت محمود، راجا خرم نواز، جہانگیر خان ترین، علیم خان اور دیگر پر 2014 کے دھرنے کےدوران اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس سے قبل عدالت نے 30 جون کو انہیں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دے دیا تھا جبکہ وزیراعظم عمران خان کو ان کیسز میں پیشی سے پہلے ہی استثنیٰ دیا جاچکا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی وی حملہ کیس: وزیراعظم عمران خان کو حاضری سے مستقل استثنیٰ

دوسری جانب جب صدر عارف علوی نے عہدہ صدارت کا حلف اٹھایا تو ان کے وکیل نے انہیں صدارتی استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا تاہم انہوں نے سربراہِ ریاست ہونے کے باوجود اپنے خلاف کیس کی پیروی کا انتخاب کیا۔

واضح رہے کہ آئین کی دفعہ 248 (2) کے مطابق ’گورنر اور صدر کے عہدے کی مدت کے دوران ان کے خلاف کوئی مجرمانہ یا کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی جائے گی‘۔

پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس

یاد رہے کہ 2014 میں اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے یکم ستمبر کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کردیا تھا، جس کی وجہ سے پی ٹی وی نیوز اور پی ٹی وی ورلڈ کی نشریات کچھ دیر کے لیے معطل ہوگئی تھیں.

استغاثہ کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 26 دیگر زخمی ہوگئے تھے جبکہ اس اشتعال انگیزی کے دوران 60 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی وی حملہ کیس: 17 ملزمان کی گرفتاری کا حکم

عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ نے اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے 65 تصاویر، ڈنڈے، کٹرز وغیرہ پیش کیے تھے۔

حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزام کے تحت انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ احتجاج پُرامن نہیں تھا جبکہ ملزمان نے اس واقعے کے 3 سال بعد اس کیس میں ضمانت حاصل کی تھی۔