لاہور: گھریلو ناچاقی پر شوہر نے تشدد کے بعد اہلیہ کی ناک کاٹ دی

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

پولیس نے  لہو لہان خاتون کو لاہور کے جنرل ہسپتال پہنچایا—تصویر: شٹر اسٹاک
پولیس نے لہو لہان خاتون کو لاہور کے جنرل ہسپتال پہنچایا—تصویر: شٹر اسٹاک

لاہور کے علاقے فیکٹری ایریا کے تھانے کی حدود میں ایک آدمی نے گھریلو ناچاقی پر مبینہ طور پر اپنی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر اس کی ناک کاٹ دی۔

اس کے ساتھ سجاد احمد نامی شخص نے اپنی زوجہ شازیہ کا سر بھی مونڈھ دیا اور اسے ربر کے پائپ سے شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

رپورٹ کے مطابق سجاد کے گھر سے شازیہ اور اس کے چھوٹے بچوں کی چیخ و پکار کی آواز سن کر پڑوسی جائے واردات پر پہنچے، جہاں بچے اپنی ماں کی زخمی حالت دیکھ کر بری طرح سہمے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازی خان: بیوی کے حساس اعضا کاٹنے کے الزام میں شوہر گرفتار

خیال رہے کہ شازیہ اور سجاد احمد 4 بیٹیوں اور 2 بیٹوں کے ہمراہ ستارہ کالونی میں رہائش پذیر تھے۔

چنانچہ پڑوسیوں نے جائے وقوع پر پہنچ کر شازیہ کو بچایا اور پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد لہو لہان خاتون کو لاہور کے جنرل ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

بعد ازاں پڑوسیوں نے پولیس کو بتایا کہ سجاد احمد اکثر اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور انہیں معمولی جھگڑوں پر پائپوں اور لوہے کی سلاخوں سے پیٹا کرتے تھے، جس پر متعدد مرتبہ پڑوسیوں نے مداخلت بھی کی۔

مزید پڑھیں: شوہر نے بیوی کی ناک کاٹ ڈالی

اس سلسلے میں ایک ڈاکٹر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تشدد کا شکار خاتون کو چہرے کی پیچیدہ سرجری کرنے کے لیے ہسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے، جس میں انہیں مصنوعی ناک لگائی جائے گی۔

دوسری جانب شازیہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ گھر کے قریب ہی اپنی بیٹی کے سسرال گئی تھی جہاں اس کا شوہر آپہنچا اور انہیں گھر واپس لا کر دروازہ لاک کردیا اور پائپ سے مارا۔

خاتون نے دعویٰ کیا کہ سجاد نے انہیں کہا کہ جو پیسے دکاندار کو ماہانہ قسط کی صورت میں ادا کرنے تھے وہ اس نے میری صحت پر خرچ کردیے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازی خان: شوہر نے گھریلو تنازع پر اہلیہ کی ناک کاٹ دی

جس کے بعد سجاد احمد نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور اسی اثنا میں الماری سے چھری نکال کر ان کی ناک کاٹ دی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ شازیہ کی درخواست پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا اور اس کی گرفتاری کے لیے ٹیم بھی روانہ کردی گئی۔

پولیس کے مطابق سجاد احمد اپنے جرم کا ارتکاب کرنے کے فوری بعد جائے واردات سے فرار ہوگیا تھا۔


یہ خبر 17 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔