بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی نے نیا موڑ لے لیا، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

شاہ محمود کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے — فوٹو: ڈان نیوز
شاہ محمود کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی اور حق خود ارادیت نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کی وجہ سے ایک نیا موڑ لیا ہے۔

لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام کل جماعتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اس نئے موڑ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی طے کرنی ہے'۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد سے درجنوں کشمیری سیاست دان اور رہنماؤں کو گرفتار یا نظربند کردیا تھا، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ و موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، سیاسی اختلافات کے باوجود کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم متفق ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم پارلیمنٹ کے مرتب کردہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو لے کر آگے بڑھے اور ہمارا مقصد اسے دوبارہ بین الاقوامی سطح پر لانا تھا'۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ 'متنازع قانون' کے تحت گرفتار

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'دنیا کی توجہ دیگر امور کی جانب چلی گئی تھی مسئلہ سب بھلا چکے تھے تاہم ہم نے اس مسئلے کو دوبارہ بین الاقوامی سطح تک پہنچایا اور آج ہر جانب سے ہمیں کشمیر پر بات ہوتی سنائی دے رہی ہے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'سلامتی کونسل کے اجلاس کے لیے بھارت نے بہت مشکلات پیدا کی تھیں لیکن کئی ممالک نے اس معاملے پر لچک دکھائی جس کی وجہ سے ہمیں کامیابی ملی اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے بیان جاری کیا کہ اس مسئلے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت، دو طرفہ معاہدے کے تحت حل ہونا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سلامتی کونسل کے بعد ہم نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس طلب کیا جو نہایت مشکل کام تھا کیونکہ اس کے رکن ممالک میں بھی بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن ہمیں وہاں بھی کامیابی ہوئی اور او آئی سی نے یکسر بیان جاری کیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو کا فالفور خاتمہ کیا جائے'۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو جنیوا کانفرنس میں بھی تقویت ملی جہاں 58 ممالک نے ہمارے موقف کی تائید کی اور انسانی حقوق کونسل میں بھی کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم پر پاکستان کے موقف کو پذیرائی ملی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی مخالفت کے باوجود یورپی یونین کے آج ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں موجود ہے جہاں انسانی حقوق کے اداروں کو مدعو کیا گیا ہے اور وہ اس پر بریفنگ دیں گی اور امید ہے کہ وہاں کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم پر واضح موقف اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 'پرسوں وزیر اعظم کے ہمراہ سعودی عرب جارہا ہوں، وہاں چند اہم نشستیں متوقع ہیں جس میں شرکت کے بعد ہم نے مزید اقدامات پر غور و فکر کرنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری کوششوں کی وجہ سے دنیا بھر کے تمام انسانی حقوق کے رضاکار آج پاکستان کے موقف کی تائید کر رہے ہیں'۔

انہوں نے بھارتی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر نریندر مودی کا کشمیر کی فلاح و بہبود کے لیے آرٹیکل 370 واپس لینے کا دعویٰ سچا ہے تو وہ مقبوضہ وادی سے کرفیو ہٹا کر سری نگر میں جلسہ منعقد کریں اور کشمیری عوام سے رائے لے لیں، انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کشمیری عوام نے ان کے اقدامات کو مسترد کیا ہے یا قبول کیا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی رہنما کشمیر میں امن کیلئے کام کریں، ملالہ یوسف زئی کا مطالبہ

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'مودی کے اس فیصلے پر ہندوستان تقسیم ہوچکا ہے جس کا ثبوت بھارتی سپریم کورٹ میں 14 پٹیشنز ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہمیں یکسوئی اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے اور ہماری کوششیں رنگ لائیں گی'۔

مودی نے ہٹلر کا ریکارڈ توڑ دیا، گورنر پنجاب

اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ 'مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، دنیا ہٹلر کے دور کے مظالم یاد کرتی ہے، اس کا دن بھی منایا جاتا ہے مگر نریندر مودی کی حکومت کے بدترین مظالم نے ہٹلر کا بھی ریکارڈ توڑ دیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جلوس اور احتجاج کرنا اور شام کو گھر چلے جانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، تارکین وطن پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ مسئلے کے لیے متحد ہوکر کام کریں'۔

انہوں نے بتایا کہ 'جب بھارت نے آرٹیکل 370 واپس لیا تو برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں چھٹیاں تھیں تاہم ہم نے ان سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے کہا کہ آپ کشمیر کے لیے آواز اٹھائیں تو 50 سے زائد اراکین پارلیمنٹ نے چھٹیوں کے دوران ہی اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری، برطانوی وزیر اعظم کو خط لکھا اور اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے قرار داد منظور کرتے ہوئے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت کی'۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر اور پاگل پن

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم کشمیر کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر جس طرح پیش کرسکتے تھے، ہم نے 70 سالوں میں نہیں کیا، آج لوہا گرم ہے، ہمیں پھر موقع ملا ہے اور ہمیں انفرادی طور پر بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا'۔

انہوں نے کانفرنس کے شرکا سے کہا کہ 'میں گزارش کرتا ہوں کہ ایک کتاب بنائی جائے جس میں 70 سالوں میں بھارت نے جتنے مظالم ڈھائے ہیں ان کی داستانیں لکھی جائیں'۔

چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ 'فلسطین میں تو انسانی حقوق کے علمبردار اور صحافی یہاں تک کہ ہر کوئی جاسکتا ہے تاہم کشمیر میں تو بھارت کی اپنی اپوزیشن جماعت کو ہی روک دیا جاتا ہے'۔