آئی ایم ایف کے مطابق ملکی معیشت کی سمت درست ہے، اسد عمر

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

سابق وزیرخزانہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی—فائل فوٹو: پی آئی ڈی
سابق وزیرخزانہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی—فائل فوٹو: پی آئی ڈی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے پروگرام پر عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں جارہی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی صدارت میں ہوا، جس میں پاکستان آئے ہوئے آئی ایم ایف کے وفد نے شرکت کی، جس کے باعث اس اجلاس کو ان کیمرا کردیا گیا۔

خیال رہے کہ آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور 8 رکنی وفد کے ہمراہ اعلیٰ حکومتی اداروں کے افسران سے بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا وفد پروگرام کارکردگی پر نظر ثانی کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا

اس حوالے سے وزارت خزانہ کے نمائندے نے کہا تھا کہ جہا ازعور کی سربراہی میں وفد اور مشن چیف برائے پاکستان ارنستو رامیریز ریگو 'شیڈول کے مطابق یہاں پروگرام کی نظر ثانی' کے لیے موجود ہیں، بعد ازاں اس وفد نے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ادھر اسد عمر کی زیر صدارت اس اجلاس میں آئی ایم ایف مشن نے کمیٹی کو قرض پروگرام پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد سابق وزیر خزانہ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ معیشت کی سمت درست ہے، جو مالیاتی ادارے نے بولا وہ میں آپ کو بتا رہا ہوں اپنی جانب سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر اراکین نے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا اور وفد کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے ریونیو میں اضافہ ہورہا ہے۔

دوران گفتگو اسد عمر نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے پروگرام پر عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ توانائی کے شعبے کی اصلاحات پر بھی بات چیت کی گئی۔

سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی سفارشات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جبکہ اراکین نے مہنگائی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

آئی ایم ایف کا یہ پروگرام کامیاب نہیں ہوسکتا، قیصر شیخ

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی اور کمیٹی میں شامل رکن قیصر شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا یہ پروگرام کامیاب نہیں ہوسکتا اور اس کے لیے دوبارہ مذاکرات کرنے پڑیں گے۔

قیصر شیخ کا کہنا تھا کہ یہ قرض پروگرام غیر حقیقی ہے جبکہ بجٹ خسارہ 8.9 تک پہنچ چکا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا، نفیسہ شاہ

ادھر کمیٹی میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی نفیسہ شاہ نے بھی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی اور کہا کہ آئی ایم ایف نے ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پابندیاں لگا کر پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بحران سے نکل کر مستحکم دور میں داخل ہوگئے، مشیر خزانہ

نفیسہ شاہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق بھی شرائط عائد کی ہیں جبکہ مالیاتی ادارے کا ایف اے ٹی ایف اور سی پیک سے کوئی تعلق نہیں۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ہماری کسی بات کا جواب نہیں دیا بلکہ صرف ہماری بات سنی۔

انہوں نے مالیاتی ادارے کے پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی وجہ سے پاکستان میں صنعتیں بند ہوگئیں جبکہ ملک میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔