آئی ایم ایف کے قرضے سے دگنا ملک کا ٹریفک حادثات سے معاشی نقصان

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2019

ای میل

پاکستان کو آئی ایم ایف سے اگلے تین سال میں 6 ارب ڈالر ملیں گے اور حادثات میں سالانہ 9 ارب ڈالر نقصان ہو رہا ہے —فوٹو: شٹر اسٹاک
پاکستان کو آئی ایم ایف سے اگلے تین سال میں 6 ارب ڈالر ملیں گے اور حادثات میں سالانہ 9 ارب ڈالر نقصان ہو رہا ہے —فوٹو: شٹر اسٹاک

وزارت مواصلات کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ہر سال ٹریفک حادثات کی وجہ سے تقریبا 9 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جو تقریبا 1400 ارب روپے ہے اور یہ رقم حادثے کے بعد گاڑیوں کی مرمت، زخمیوں کے طبی علاج، گاڑیوں کی مروج قیمت اور حادثات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے پر خرچ کی جاتی ہے، 9 ارب ڈالر ایک بہت بڑی رقم ہے جو قومی دفاعی بجٹ سے کہیں زیادہ ہے اور یہ رقم ہم ٹریفک حادثات کی مد میں ضائع کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں آئندہ چند سال میں اس رقم میں مزید اضافے کے امکانات ہیں کیونکہ گاڑیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ آئندہ 3 سال کے دوران پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 6 ارب ڈالر ملنے والے ہیں اور یہ رقم پاکستان میں ہر سال ٹریفک حادثات کی وجہ سے ضائع ہوجانے والے 9 ارب ڈالر سے بھی کہیں کم ہے اور اگر 9 کو 3 سے ضرب دیں تو یہ رقم 27 ارب ڈالر ہو جائے گی اور 3 سال کے لیے سود پر عالمی مالیاتی ادارے سے لیا گیا قرض ٹریفک حادثات کی وجہ سے ضائع ہونے والی رقم سے بھی بہت کم ہے۔

ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر 2 سے لے کر 4 پہیوں والی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور آنے والے سال میں گاڑیوں کی تعداد انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہوگی اور اگر ان بڑھتی ہوئی گاڑیوں کو منظم انداز میں کنٹرول نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ پاکستان میں حادثات کی تعداد میں اور تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جائے گا.

پاکستان میں ہر پانچ منٹ میں ایک شخص روڈ حادثے کا شکار ہوتا ہے—فوٹو: روڈ سیفٹی پاکستان
پاکستان میں ہر پانچ منٹ میں ایک شخص روڈ حادثے کا شکار ہوتا ہے—فوٹو: روڈ سیفٹی پاکستان

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں ہرسال 27 ہزار 582 اموات صرف ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ لگ بھگ 50 ہزار لوگ ان حادثات سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں جن میں سے کچھ افراد عمر بھر کے لیے معذور جبکہ کچھ شدید زخمی ہوتے ہیں، یہ سب سے زیادہ تشویشناک بات ہے کہ پاکستان میں ہر 5 منٹ بعد سڑک پر ہونے والے حادثات میں کوئی نہ کوئی زخمی یا جاں بحق ہو رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے پر قابو کیسے پایا جا سکتا ہے؟ کیا کوئی پاکستان میں ایسی حکمت عملی موجود ہے جس سے دن بدن بگڑتی صورتحال کو تبدیل کیا جا سکے؟ اس حوالے سے میں کچھ مفید تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس صورتحال کو بہتر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت کو اس رقم کو محفوظ کرنا ہوگا جو ہر سال سڑک حادثات پر ضائع ہو جاتی ہے، حکومتی اداروں کو ایسی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو گاڑیوں کی دیکھ بھال اور ان کے معیار، سڑکوں کے مناسب ڈھانچے کے علاوہ سڑکوں کی دیکھ بھال پر توجہ دے، تب جا کر اس رقم کو بچایا جا سکتا ہے۔

دوسری تجویز ڈرائیورز کی تربیت کے حوالے سے ہے، پاکستان میں ایسے لوگ 5 فیصد ہیں جو ڈرائیونگ لائسنس استعمال کرتے ہیں جبکہ زیادہ تر لوگ ڈرائیونگ اپنے دوست اور گھر والوں سے سیکھنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ کسی 'ڈرائیونگ سینٹر' سے باقاعدہ تربیت حاصل کریں جبکہ پاکستان میں ایسے لوگوں کی تعداد 95 فیصد ہے جو بغیر لائسنس کے گاڑی چلاتے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا کرنا چاہیے۔

حکومت کو ڈرائیورز کی تربیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے جبکہ ایسے لوگ جو بغیر لائسنس کے گاڑی چلاتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک بھر کی سڑکوں پر جدید ڈیجیٹل سسٹم نصب کرنا ناگزیر بن چکا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
ملک بھر کی سڑکوں پر جدید ڈیجیٹل سسٹم نصب کرنا ناگزیر بن چکا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

تیسری تجویز گاڑیوں پر ٹیکس لاگو کرنا ہو گا، پاکستان میں بڑی تعداد میں گاڑیوں کا استعمال ہو رہا ہے جبکہ ان پر لاگو کردہ ٹیکس انتہائی کم ہے۔

موجودہ حکومت کی جانب سے جو ٹیکس گاڑیوں پر عائد کیا گیا ہے میرے ذاتی خیال کے مطابق ایک انتہائی مؤثر قدم ہے، ٹیکس میں اضافے کے ساتھ ساتھ سڑک پر ٹریفک کی بڑھتی ہوئی تعداد سے کاربن کے اخراج پر بھی ٹیکس عائد کرنا ہوگا، اس کے علاوہ شہریوں کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے بہتر نقل و حمل کی فراہمی کے لیے ایک مرکزی 'پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام' متعارف کروانے کی بھی ضرورت ہے جو شہروں اور دیہاتوں میں بھی لوگوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کر سکے۔

چوتھی تجویز ''الیکٹرانک نگرانی''کے حوالے سے ہے، پاکستان میں اس نظام کو متعارف کرنے کے لیے پالیسی اور ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو لمبے عرصے تک چل سکے۔

یہ نظام سڑکوں پر آنے اور جانے والوں کو محتاط رکھے گا، خواہ وہ گاڑی و موٹر سائیکل چلانے والے ہوں یا پیدل چلنے والے حضرات ہی کیوں نہ ہوں، یہ نظام لوگوں کو حساس اور خبردار کرے گا جس سے لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ سڑک پر ایسا جدید نظام موجود ہے جو ان کی نگرانی کر رہا ہے، اگر وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں گے تو ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا، جس سے قومی خزانے کو ہی فائدہ ہوگا۔

درحقیقت ہمیں ایسا نظام لانے کی ضرورت ہے جو عملی طور پر لاگو بھی ہو سکے، نوجوانوں کے لیے یہ سسٹم روزگار پیدا کرنے کے لیے بھی کافی مددگار ثابت ہو گا، جو موجودہ حکمران جماعت کے ایجنڈے کا بھی ایک حصہ ہے۔

یہ عمل ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا، الیکٹرانک مانیٹرنگ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ملک کو معاشی طور پر بھی مستحکم بنانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔

یہ رقم بین الاقوامی قرض دہندگان کے ملک پر موجودہ دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد فراہم کرے گا، اگر ہم اپنے ملک میں محفوظ سڑکیں چاہتے ہیں تو ہمیں خطرات کے عناصر کو کم کرنے اور لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے سڑکوں کی حفاظت اور الیکٹرانک مانیٹرنگ کا نظام بحال کرنا ہوگا، اسی صورت میں ہم ملک کو پائیدار اور مستحکم سمت کی جانب گامزن کرنے میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔


لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی آف اسلام آباد کے شعبہ سماجیات کے چیئرمین ہیں، وہ پاکستان میں سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، جہاں وہ سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، وہیں وہ ان کے حل کی تجاویز بھی پیش کرتے ہیں۔

ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔