سعودی عرب کی یومیہ 30 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار بند رہے گی، ایس اینڈ پی

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2019

ای میل

ایس اینڈ پی کے مطابق سعودی عرب کے لیے تیل کی فراہمی مشکل ہوسکتی ہے — فوٹو: اے پی
ایس اینڈ پی کے مطابق سعودی عرب کے لیے تیل کی فراہمی مشکل ہوسکتی ہے — فوٹو: اے پی

توانائی کے اعداد و شمار بتانے والے ادارے 'ایس اینڈ پی پلیٹس' نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے کی وجہ سے یومیہ 30 لاکھ بیرل تیل کی فراہمی بند ہوگئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس اینڈ پی گلوبل پلیٹس کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب سے یومیہ 30 لاکھ بیرل تیل کی فراہمی ایک ماہ تک متاثر رہے گی۔

خیال رہے کہ سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد دنیا کو خبردار کیا گیا تھا کہ تنصیبات پر حملے کے بعد دنیا کو تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

کابینہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حریفوں کی جانب سے جارحانہ حکمت عملی کا مقصد عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب تیل تنصیبات پر حملے میں ایران براہ راست ملوث ہے، امریکا

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ کا کہنا تھا کہ ہم عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان جارحانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے۔

اس حوالے سے سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کا کہنا تھا کہ ’اس سے قطع نظر کہ کون ان حملوں میں ملوث تھا اور ہم رد عمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ہم نے کسی کا نام نہیں لیا‘۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے اپنے ابتدائی بیانات میں الزام عائد کیا تھا کہ یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے تھے۔

سعودی عرب یومیہ 99 لاکھ بیرل تیل نکالتا ہے، جس میں سے وہ یومیہ 70 لاکھ بیرل برآمد کرتے ہیں اور جن میں درآمد کنندگان زیادہ تر ایشیائی ممالک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی ولی عہد کو فون، تیل تنصیبات کے تحفظ کیلئے مدد کی پیشکش

ایس اینڈ پی کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب ممکنہ طور پر کہے گا کہ وہ دنیا کو بلا تعطل تیل کی فراہمی جاری رکھے گا تاہم یہ ان کے لیے مشکل ہوسکتا ہے‘۔

ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی تاخیر کے اشارے میں آئندہ ہفتوں یا مہینوں کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔

ایس اینڈ پی کے مطابق طویل عرصے تک سعودی عرب کے تیل کی بندش کا خطرہ اس بات کا عندیہ ہے کہ ریاض کے پاس مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کے لیے مزید پیداوار کی صلاحیت نہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا کہ آئندہ ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب اپنی تعطل کا شکار ہونے والی پیداوار کا 40 فیصد بحال کردے گا تاہم ماہرین اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ پہلے جیسی صورتحال میں کتنا وقت لگے گا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

مزید پڑھیں: سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کا امریکی الزام مسترد، جنگ کیلئے تیار ہیں، ایران

خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس ابقیق اور خریص پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ابقیق اور خریص میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا۔

مذکورہ پلانٹس میں آتشزدگی کی وجہ سے امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ دنیا بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے جبکہ طلب اور رسد میں فرق کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

بعد ازاں امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) نے بتایا تھا کہ خام تیل کی قیمت میں 15.5 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا جو 22 جون 1998 کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔

ادھر غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں اور تیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 19.5 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔